جج نے محکمہ انصاف کو انتخابی عملے کو دھمکانے سے روک دیا

ایک عدالت، ایک بیلٹ ڈبے اور میز کے پاس انتخابی کارکنوں کی سادہ ادارتی تصویر

ایک عدالت اور بیلٹ ڈبے کی تصویر۔ مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ تصویر۔

سان فرانسسکو — ایک وفاقی جج نے جمعے کو محکمہ انصاف اور محکمہ داخلی سلامتی کو اس بات سے روک دیا کہ وہ انتخابی افسران اور کارکنوں کو ان دعوؤں کی بنیاد پر دھمکائیں کہ بعض رجسٹرڈ ووٹر ووٹ دینے کے اہل نہیں ہیں۔

شمالی کیلیفورنیا کی ضلعی عدالت کی جج ٹرینا ایل تھامپسن نے 30 اکتوبر کو ایک عارضی حکم جاری کیا، جس کے بارے میں ایسوسی ایٹڈ پریس اور دی ہل نے رپورٹ کیا۔ یہ مقدمہ سروس ایمپلائز انٹرنیشنل یونین، امریکن فیڈریشن آف اسٹیٹ، کاؤنٹی اینڈ میونسپل ایمپلائز، لیگ آف یونائیٹڈ لاطینی امریکن سٹیزنز اور این اے اے سی پی نے دائر کیا تھا۔ مقدمے کا نمبر 3:26-cv-12800 ہے اور اس کا نام ایس ای آئی یو بنام امریکی محکمہ انصاف ہے۔

یہ حکم 16 نومبر کو شام پانچ بجے تک نافذ رہے گا۔ اس مدت تک دونوں محکمے ریاستی اور مقامی انتخابی افسران یا کارکنوں کو دھمکا، ڈرا یا مجبور نہیں کر سکتے کہ وہ کسی رجسٹرڈ ووٹر کا بیلٹ صرف اس لیے روک لیں کہ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ وہ ووٹر اہل نہیں ہے۔ رپورٹنگ کے مطابق یہ پابندی اسی بنیاد پر لگائی گئی ہے۔

حکم میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ محکمے افسران سے یہ مطالبہ نہیں کر سکتے کہ وہ مخصوص ووٹروں کے نام فہرست سے نکال دیں، انہیں بیلٹ دینے سے انکار کر دیں، یا اسی بنیاد پر ان کے بیلٹ الگ رکھ دیں۔ محکمے افسران کو اس بات پر مقدمے کی دھمکی بھی نہیں دے سکتے کہ انہوں نے ان مطالبات کو ماننے سے انکار کیا، یا انہوں نے بیلٹ اسی طرح گنے جس طرح قانون کہتا ہے۔

جج نے یہ بھی حکم دیا کہ دونوں محکمے ہر اس حکومت کو اطلاع دیں جسے انہوں نے بیلٹ سے متعلق خطوط بھیجے تھے کہ یہ دھمکیاں اب روک دی گئی ہیں۔ محکمہ انصاف کو اپنے ووٹر فہرستوں سے جڑی زیر التوا سرچ وارنٹ کی درخواستیں اور گرینڈ جیوری کے سمن بھی ظاہر کرنا ہوں گے، جیسا کہ رپورٹنگ میں بیان کردہ حکم میں کہا گیا ہے۔

یہ فیصلہ ریاستوں پر محکمے کے کئی ہفتوں کے دباؤ کے بعد آیا ہے۔ رپورٹنگ کے مطابق محکمہ انصاف نے کیلیفورنیا سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ تقریباً 20,000 بیلٹ الگ رکھ دے اور واشنگٹن سے کہا تھا کہ وہ 405 بیلٹ الگ رکھے۔ اس نے لاس اینجلس کاؤنٹی کے انتخابی کارکنوں کو سمن بھی بھیجے تھے۔ بدھ کو ایک اور وفاقی جج نے کیلیفورنیا کے بیلٹوں کے بارے میں محکمے کی کوشش مسترد کر دی تھی، اور جمعے کو ایک اپیل عدالت نے بھی اس کوشش کی حمایت سے انکار کر دیا۔

اسی دوران محکمے نے تمام 50 ریاستوں کو خطوط بھی لکھے۔ 29 اکتوبر کے ان خطوط پر قائم مقام نائب اٹارنی جنرل ٹرینٹ میک کوٹر کے دستخط تھے۔ افسران کو یاد دلایا گیا کہ وفاقی قانون، جس کا حوالہ 52 یو ایس سی 20701 دیا گیا، انہیں انتخابی ریکارڈ 22 ماہ تک محفوظ رکھنے کا پابند کرتا ہے۔ خطوط میں کہا گیا کہ جان بوجھ کر ایسا نہ کرنے پر ایک سال تک قید اور 1,000 ڈالر جرمانے کی سزا ہو سکتی ہے۔

جج تھامپسن نے لکھا کہ بیلٹ پہلے ہی جاری ہو چکے ہیں اور امریکی ووٹ ڈالنا شروع کر چکے ہیں، جیسا کہ رپورٹنگ میں بتایا گیا ہے۔ ان کے مطابق مقدمہ لانے والے گروپوں کے کامیاب ہونے کا امکان ہے۔ رپورٹنگ کے مطابق محکمہ انصاف نے اس فیصلے پر فوری طور پر کوئی جواب نہیں دیا۔

یہ معاملہ اس لیے اہم ہے کہ یوم انتخاب منگل 3 نومبر ہے اور ملک کے بیشتر حصوں میں قبل از وقت اور ڈاک کے ذریعے ووٹنگ پہلے ہی جاری ہے۔ گنتی کا اصل کام ریاستی اور مقامی کارکن کرتے ہیں، جو اکثر چھوٹے دفاتر میں کم عملے کے ساتھ کام کرتے ہیں۔ ووٹ سے چند دن پہلے وفاقی افسران کی بات پر حد لگانے والا عدالتی حکم ایک بنیادی سوال سے جڑا ہے کہ یہ فیصلہ کون کرے گا کہ رجسٹرڈ ووٹر کا بیلٹ آگے بڑھے گا اور کس ثبوت کی بنیاد پر ہوگا۔ درخواست گزاروں کا کہنا تھا کہ مقدمے کی دھمکیوں سے کارکن ڈر کر درست بیلٹ بھی روک سکتے ہیں۔ جج کے حکم سے کیس کی سماعت تک عام طریقہ کار برقرار رہے گا۔

محکمے کو پیر 2 نومبر کو دوپہر تک جواب دینا ہے۔ طویل حکم امتناعی پر سماعت 13 نومبر کو مقرر ہے، جو یوم انتخاب کے بعد لیکن اس عارضی حکم کی 16 نومبر کو میعاد ختم ہونے سے پہلے ہے۔ اس وقت عدالت جو فیصلہ کرے گی، اس سے آنے والے ہفتوں میں اس انتخاب کے متنازع بیلٹوں سے نمٹنے کا طریقہ متاثر ہو سکتا ہے۔ مزید تفصیل اس رپورٹ میں پڑھی جا سکتی ہے۔ زرک نیوز اس کیس کی پیش رفت پر نظر رکھے گا۔

یہ خبر شیئر کریں

غلطی نظر آئی؟ زرک نیوز سے رابطہ کریں