یروشلم — وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو اور ان کے حریف گادی آئزنکوٹ نے منگل کے انتخابات کے بعد اسرائیل کی قیادت کے متضاد دعوے پیش کیے ہیں۔ نیتن یاہو نے دائیں بازو کی حکومت بنانے کا مطالبہ کیا جبکہ آئزنکوٹ نے کہا کہ ووٹرز نے دیرینہ رہنما کو مسترد کر دیا ہے، تاہم ایگزٹ پولز کے مطابق دونوں اتحاد اکثریت سے محروم رہے۔ رائٹرز کے مطابق کسی نے بھی فتح کا دعوی نہیں کیا۔
اصل ووٹوں کی گنتی جاری ہے۔ کان 11 اور چینل 13 کے ایگزٹ پولز میں دونوں اتحاد 51، 51 نشستوں پر برابر رہے جبکہ چینل 12 نے نیتن یاہو کے لیکود اتحاد کو 52 کے مقابلے میں 49 کی معمولی برتری دی۔ رات کے دوران سامنے آنے والے بعض دیگر ایگزٹ پولز میں آئزنکوٹ کے اتحاد کو معمولی برتری حاصل رہی۔ کسی بھی جائزے میں کوئی اتحاد 120 رکنی کنیسٹ میں حکومت کے لیے درکار 61 نشستوں تک نہیں پہنچا، اور حتمی نتائج جمعرات یا جمعہ کو متوقع ہیں۔
یہ تعطل نیتن یاہو کے حق میں جا سکتا ہے کیونکہ وہ طویل اتحادی مذاکرات کے دوران، یا حتی کہ نئے انتخابات تک، نگراں وزیراعظم کے طور پر عہدے پر برقرار رہ سکتے ہیں۔ رائٹرز کے مطابق نیتن یاہو کے اتحاد میں اتمار بن گویر اور بیزلیل سموترچ کی قیادت میں انتہائی دائیں بازو کی مذہبی جماعتوں کو مجموعی طور پر 13 نشستیں ملنے کا امکان ہے۔
دونوں بڑے اتحادوں سے باہر عرب جماعتیں توازن کی قوت بن سکتی ہیں کیونکہ اسرائیل کے فلسطینی شہریوں کی ووٹر ٹرن آوٹ میں تاریخی اضافہ دیکھا گیا۔ تاہم یاشر پارٹی کے رہنما اور سابق فوجی سربراہ آئزنکوٹ نے ان کے ساتھ حکومت بنانے کا امکان تقریبا مسترد کر دیا ہے جس سے ان کا اپنا راستہ بھی پیچیدہ ہو گیا ہے۔ عرب جماعتوں کے اتحاد جوائنٹ لسٹ کے امیدواروں نے کہا کہ وہ امید رکھتے ہیں کہ عرب ووٹرز کی بڑی تعداد انہیں نیتن یاہو کے اتحاد کی واپسی روکنے میں فیصلہ کن کردار دے گی۔
مہم کے آخری مرحلے میں سکیورٹی سب سے بڑا موضوع بن گئی۔ یروشلم میں لیکود کے صدر دفتر میں رات تین بجے کے بعد حامیوں سے خطاب میں نیتن یاہو نے اسرائیل کی فوجی کامیابیوں کو اجاگر کیا اور ایران کے خلاف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ مشترکہ کارروائی کا امکان ظاہر کیا۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل کو صدر ٹرمپ کے ساتھ مل کر ایران کے وجودی خطرے کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنے کا تاریخی موقع حاصل ہے۔ آئزنکوٹ نے نیتن یاہو کو خبردار کیا کہ وہ اسرائیل کی سکیورٹی کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہ کریں، انہیں مینڈیٹ اور عوام کے اعتماد سے محروم نگراں وزیراعظم قرار دیا اور مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا۔
اسرائیل کی مرکزی الیکشن کمیٹی کے مطابق ووٹر ٹرن آوٹ 77.7 فیصد رہا جو دو دہائیوں سے زیادہ عرصے میں سب سے زیادہ اور 2022 کے مقابلے میں لگ بھگ سات فیصد زیادہ ہے۔ اسرائیل ڈیموکریسی انسٹیٹیوٹ کے صدر یوحانان پلیس نر نے ایگزٹ پولز کو نیتن یاہو کے اتحاد کی بڑی شکست قرار دیا تاہم خبردار کیا کہ آئزنکوٹ واضح فاتح کے طور پر سامنے نہیں آئے اور گنتی کے ساتھ صورتحال بدل سکتی ہے۔
یہ انتخابات 7 اکتوبر 2023 کے حماس حملے کے بعد اسرائیل کے پہلے انتخابات ہیں جس میں 1200 افراد ہلاک اور 251 یرغمال بنائے گئے تھے، اور اس کے بعد غزہ، لبنان اور ایران کے ساتھ جنگیں ہوئیں۔ 66 سالہ آئزنکوٹ، جن کے بیٹے اور دو بھتیجے غزہ جنگ میں مارے گئے، حملے کے بعد نیتن یاہو کی جنگی کابینہ میں شامل ہوئے مگر آٹھ ماہ بعد قیادت پر تنقید کرتے ہوئے الگ ہو گئے۔ ان کا کہنا ہے کہ غزہ میں اسرائیل کا ردعمل ناکام رہا کیونکہ غزہ کے صحت حکام کے مطابق 74 ہزار سے زیادہ فلسطینی ہلاک ہوئے اور حماس بدستور اقتدار میں ہے۔ 77 سالہ نیتن یاہو گزشتہ 30 سال میں لگ بھگ 19 سال وزیراعظم رہے اور بدعنوانی کے دیرینہ الزامات، جن کی وہ تردید کرتے ہیں، کے ساتھ انتخابات میں اترے۔
اب اگلا مرحلہ حتمی گنتی اور چھوٹی جماعتوں پر منحصر ہے جو ماضی کی طرح ہفتوں یا مہینوں تک جاری رہنے والے مذاکرات میں فیصلہ کن کردار ادا کر سکتی ہیں۔ اگر کوئی اتحاد حکومت نہ بنا سکا تو نئے انتخابات کی نوبت آ سکتی ہے جس کی آئزنکوٹ نے مخالفت کی ہے۔
