فیئر فورڈ، انگلینڈ — اتوار کو برطانیہ کی انسداد دہشت گردی پولیس نے راف فیئر فورڈ کے قریب دھماکہ خیز مواد سے متعلق قانون کے تحت متعدد افراد کی گرفتاری کے بعد تحقیقات سنبھال لیں۔ فوج کے بم ناکارہ بنانے والے ماہرین گاڑیوں کی جانچ کر رہے ہیں جبکہ قریبی گاؤں کے رہائشیوں کو ایک تفریحی مرکز منتقل کیا گیا ہے۔
گلوسٹرشائر پولیس نے اتوار کی صبح ویل فورڈ گاؤں کے قریب بڑے واقعے کا اعلان کیا۔ پولیس کے مطابق علاقے میں ناکہ بندی ہے، صورتحال قابو میں سمجھی جا رہی ہے اور یہ کارروائی کسی پیشگی خفیہ اطلاع کی بنیاد پر شروع نہیں ہوئی تھی۔
پولیس نے تصدیق کی ہے کہ بم ناکارہ بنانے والے ماہرین متعدد گاڑیوں کی جانچ کر رہے ہیں۔ حکام نے ابھی یہ نہیں بتایا کہ گاڑیوں سے کیا برآمد ہوا، اور نہ ہی گرفتاریوں یا تحقیقات کا راف فیئر فورڈ سے براہِ راست تعلق ثابت کیا ہے۔ اتوار کی صبح علاقے میں ہنگامی خدمات کی بڑی نفری، جن میں خطرناک مقامات پر کام کرنے والی طبی ٹیم بھی شامل تھی، موجود رہی۔
راف فیئر فورڈ یورپ میں امریکی فضائیہ کا اہم بھاری بمبار اڈا ہے، جہاں 501ویں جنگی معاونت ونگ کا ہیڈکوارٹر ہے۔ یہاں تعینات بی-52 اور بی-1 طیارے ایران کے خلاف امریکی کارروائیوں میں حصہ لے چکے ہیں۔ ایران کے پاسداران انقلاب نے جولائی میں برطانیہ کو خبردار کیا تھا کہ امریکی بمبار طیاروں کو اس اڈے سے پرواز کی اجازت نہ دی جائے۔
برطانیہ کے وزیر دفاع ویس اسٹریٹنگ نے کہا کہ لوگوں کو اطمینان رکھنا چاہیے کہ اس واقعے سے نمٹا جا رہا ہے، جبکہ حکام کے مطابق وزیر اعظم کو صورتحال سے آگاہ رکھا جا رہا ہے۔ امریکی فضائیہ نے کہا کہ 501واں جنگی معاونت ونگ چوکس ہے اور اہلکاروں، شہری ملازمین، ٹھیکیداروں اور ان کے خاندانوں کی حفاظت کے لیے مناسب اقدامات کرے گا۔
