لاس اینجلس میں صحت کی دیکھ بھال کے فراڈ پر 15 افراد پر فرد جرم، 1.8 ارب ڈالر کے دعوے

ایک کلینک اور عدالت کی عمارت اور گرتے ہوئے طبی بلوں کی تصویر

مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ تصویر۔

لاس اینجلس — محکمہ انصاف نے جمعرات کو لاس اینجلس کے علاقے میں صحت کی دیکھ بھال کے فراڈ کے ایک بڑے آپریشن میں چھ طبی پیشہ ور افراد سمیت 15 افراد پر فرد جرم عائد کی ہے۔ محکمے کے مطابق اس معاملے میں سرکاری اور نجی صحت پروگراموں سے 1.8 ارب ڈالر سے زائد کے جعلی دعوے کیے گئے۔

محکمہ انصاف کی پریس ریلیز کے مطابق اس کیس کا سب سے بڑا حصہ ایک ایسی اسکیم ہے جس میں کمزور افراد کو کیلیفورنیا بلا کر جعلی نشہ علاج کے نام پر 1.6 ارب ڈالر سے زائد کے بل بنائے گئے، اور محکمے کے مطابق یہ اپنی نوعیت کا سب سے بڑا مقدمہ ہے جو اس نے کبھی چلایا ہے۔ ایک اور اسکیم میں میڈی کیئر سے غیر ضروری آپریشنز کے لیے 13 کروڑ 40 لاکھ ڈالر کے جعلی بل بنائے گئے جن سے مریضوں کو نقصان پہنچا، جبکہ ہاسپس کی تین اسکیموں میں ایسے مریضوں کے نام پر 13 کروڑ 80 لاکھ ڈالر سے زائد کے بل بنائے گئے جو آخری مرحلے کے مریض نہیں تھے۔ ایک اور ملزم پر کیلیفورنیا کے میڈی کیل پروگرام سے جعلی نسخوں کے ذریعے 27 کروڑ ڈالر کے فراڈ کا الزام ہے۔

محکمے کے مطابق جمعرات کو آٹھ ملزمان گرفتار کیے گئے۔ نیشنل فراڈ انفورسمنٹ ڈویژن کے اسسٹنٹ اٹارنی جنرل کولن میکڈونلڈ نے کہا کہ ان الزامات میں محکمے کی تاریخ کی سب سے بڑی سوبر ہوم فراڈ اسکیم اور ڈیٹا تجزیے سے پکڑی گئی غیر ضروری آپریشنز کی اسکیم شامل ہے، اور جو بھی ٹیکس دہندگان کے صحت کے ڈالر چرائے گا یا مریضوں کو نقصان پہنچائے گا، محکمہ اس تک پہنچے گا۔

عدالتی رپورٹنگ کے مطابق آپریشنز والے کیس میں ایک سرجن اور اس کے کاروباری ساتھی پر دو کلینکس کے ذریعے میڈی کیئر سے تقریباً 13 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کے بل بنانے کا الزام ہے، اور ان کے بلنگ کے نمونوں کو ڈیٹا تجزیے میں ملک بھر میں غیر معمولی قرار دیا گیا۔ یہ تمام باتیں فرد جرم کے الزامات ہیں، جرم کا فیصلہ نہیں۔

اس سے پہلے جون میں محکمہ انصاف نے ایک بڑے کریک ڈاؤن میں 455 افراد پر 6.5 ارب ڈالر سے زائد کے جعلی دعووں کے مقدمات بنائے تھے، اور مئی میں میڈی کیئر ادارے نے فراڈ کے خدشات پر نئے ہاسپس اور ہوم ہیلتھ اندراج پر چھ ماہ کی ملک گیر پابندی لگائی تھی۔

یہ معاملہ اس لیے اہم ہے کہ صحت کے فراڈ کی قیمت صرف ٹیکس دہندگان ادا نہیں کرتے، استغاثہ کے مطابق ان کیسوں میں مریضوں پر غیر ضروری آپریشن کیے گئے، انہیں علم کے بغیر ہاسپس میں رکھا گیا یا ایسا علاج دکھایا گیا جو دیا ہی نہیں گیا۔ تمام ملزمان اس وقت تک بے گناہ تصور کیے جائیں گے جب تک عدالت میں جرم ثابت نہ ہو جائے۔

اصل ماخذ: محکمہ انصاف کی پریس ریلیز۔

یہ خبر شیئر کریں

غلطی نظر آئی؟ زرک نیوز سے رابطہ کریں