واشنگٹن — امریکہ کے وسط مدتی انتخابات میں منگل کے ووٹ سے پہلے آخری دنوں میں ڈیموکریٹس کو قومی سروے میں واضح برتری حاصل ہے، اور دونوں جماعتیں کانگریس پر کنٹرول کے فیصلے کے لیے ووٹروں کو متحرک کرنے کی آخری کوشش کر رہی ہیں۔ ریئل کلیئر پولنگ کے اوسط کے مطابق عام بیلٹ میں ڈیموکریٹس کو 51.4 فیصد اور ریپبلکنز کو 43.2 فیصد حمایت حاصل ہے، یعنی ڈیموکریٹس کو 8.2 پوائنٹس کی برتری ہے۔ ووٹ منگل، 3 نومبر 2026 کو پڑے گا۔
ایوان نمائندگان کی تمام 435 نشستوں پر انتخاب ہو رہا ہے۔ وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق اس وقت ریپبلکنز کے پاس 219 نشستیں اور ڈیموکریٹس کے پاس 214 نشستیں ہیں، جبکہ دو نشستیں خالی ہیں۔ ڈیموکریٹس کو اکثریت کے لیے صرف تین نشستوں کا خالص اضافہ درکار ہے۔ سینیٹ میں 35 نشستوں پر انتخاب ہو رہا ہے۔ ریپبلکنز کو وہاں 53 کے مقابلے میں 47 کی اکثریت حاصل ہے، اور ڈیموکریٹس کو کنٹرول کے لیے چار نشستوں کا خالص اضافہ کر کے 51 تک پہنچنا ہو گا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مقبولیت اس صورتحال کا اہم حصہ ہے۔ حالیہ سروے میں ان کی کارکردگی کی منظوری تقریبا 37 سے 38 فیصد اور نامنظوری تقریبا 60 سے 61 فیصد بتائی گئی ہے۔ مارکیٹ لا اسکول کے 14 سے 22 اکتوبر تک کیے گئے اور 28 اکتوبر کو جاری سروے میں وسکونسن میں ان کی منظوری 37 فیصد اور نامنظوری 61 فیصد رہی۔
پول ڈائریکٹر چارلس فرینکلن نے ڈیموکریٹس کی برتری کو ان کے ووٹروں کے جوش اور ووٹ ڈالنے کے پختہ ارادے سے جوڑا ہے۔ انہوں نے خبردار بھی کیا کہ آخری دنوں میں چھوٹی تبدیلیاں بھی قریبی مقابلوں کا نتیجہ بدل سکتی ہیں، جہاں چند پوائنٹس ہی جیت اور ہار کا فیصلہ کرتے ہیں۔
ہیرس پول کے مطابق ووٹروں کی سب سے بڑی تشویش زندگی کے بڑھتے ہوئے اخراجات ہیں۔ 36 فیصد افراد نے اسے سب سے بڑا مسئلہ قرار دیا، اور 42 فیصد نے کہا کہ وہ ایک سال پہلے کے مقابلے میں مالی طور پر بدتر حالت میں ہیں۔ بدعنوانی 12 فیصد کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہی، اس کے بعد امیگریشن 9 فیصد، صحت کی سہولتیں 7 فیصد اور ٹیکس 5 فیصد رہے۔ اسی سروے میں 76 فیصد افراد کا خیال تھا کہ عہدیدار خود کو فائدہ پہنچانے کو ترجیح دیتے ہیں۔
اس انتخابی مہم میں خرچ کا ریکارڈ بھی قائم ہوا ہے۔ وسط مدتی انتخابات کی اشتہاری مہم پر خرچ 11.2 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے، جو کسی بھی وسط مدتی دور میں سب سے زیادہ ہے۔ کک پولیٹیکل رپورٹ کے مطابق سب سے زیادہ ممکنہ نتیجہ یہ ہے کہ ڈیموکریٹس ایوان میں 227 سے 240 نشستیں جیت لیں۔ جمعے کو پیش گوئی کی منڈی پولی مارکیٹ میں تاجروں نے ڈیموکریٹس کو ایوان جیتنے کا 94 فیصد اور سینیٹ جیتنے کا 69 فیصد امکان دیا۔ پیش گوئی کی منڈیاں سروے نہیں ہوتیں، یہ ووٹروں سے پوچھے گئے جوابات کے بجائے لگائی گئی شرطوں کی عکاسی کرتی ہیں۔
اہم سینیٹ مقابلوں میں بھی حالیہ سروے ڈیموکریٹس کے حق میں ہیں۔ ٹیکساس میں سی این این کے سروے میں ڈیموکریٹ جیمز ٹالاریکو کو 49 فیصد اور ریپبلکن کین پیکسٹن کو 43 فیصد حمایت ملی۔ مشی گن میں ڈیموکریٹ عبدل السید کو 49 فیصد اور ریپبلکن مائیک راجرز کو 42 فیصد حمایت حاصل رہی۔
ٹرمپ نے جمعرات کو جنوبی کیرولائنا کے شہر راک ہل میں سینیٹر ڈارلین گراہم کے لیے مہم چلائی، جن کا مقابلہ اینی اینڈریوز سے ہے۔ انہوں نے حامیوں سے کہا کہ وہ اس طرح ووٹ دیں جیسے وہ خود بیلٹ پر ہوں، اور کہا کہ منگل کی رات ہماری مضبوط رات ہو گی۔ اس کے بعد ان کے اختتام ہفتہ کے پروگرام میں ایک سے زیادہ بار تبدیلی آئی۔ ریپبلکن نیشنل کمیٹی نے کہا کہ انہوں نے ہفتے کو کنساس کے شہر سلینا اور اتوار کو آئیووا کے شہر ڈوبیوک میں طے شدہ جلسے منسوخ کر دیے ہیں تاکہ 72 گھنٹوں میں تقریبا 20 ریاستوں میں ٹیلی جلسے کیے جا سکیں۔ وال اسٹریٹ جرنل نے بعد میں رپورٹ کیا کہ وائٹ ہاؤس نے کہا کہ کنساس اور آئیووا کے پروگرام بحال ہو گئے ہیں، جس سے ہفتے کے آخر میں حتمی شیڈول غیر واضح رہا۔
ڈیموکریٹس نے اہم ریاستوں میں اپنے بڑے نام میدان میں اتارے۔ سابق صدر براک اوباما نے جارجیا میں سینیٹر جون اوسوف کے لیے مہم چلائی۔ کاملا ہیرس نے فیصلہ کن ریاستوں میں ووٹروں کو متحرک کیا، اور ٹالاریکو نے ڈیلس میں حامیوں کے جلسے سے خطاب کیا۔ ایک وجہ سے انتخابی رات کو سینیٹ کی مکمل تصویر سامنے آنے میں تاخیر ہو سکتی ہے، اور وہ الاسکا میں ایک جیسے نام کا تنازع ہے۔
