کنشاسا — جمہوری جمہوریہ کانگو میں ایبولا کی وبا سے مرنے والوں کی تعداد چار ہزار اٹھارہ ہو گئی ہے، جو آٹھ ہزار تین سو تصدیق شدہ کیسوں میں سے تقریبا نصف ہے۔ رائٹرز کے مطابق جمعے کو جاری حکومتی اعداد و شمار نے اس وبا کو کانگو کی تاریخ کی سب سے بڑی اور مہلک ایبولا وبا قرار دیا۔
صحت کے وزیر روجر کامبا نے کنشاسا میں پریس بریفنگ میں بتایا کہ مجموعی اموات کی شرح اٹھتالیس اعشاریہ چار فیصد ہے اور دو ہزار ایک سو باسٹھ مریض صحت یاب ہوئے ہیں۔ سات صوبوں کے تریسٹھ متاثرہ صحت زونز میں سے بارہ میں بیالیس دن سے کوئی نیا کیس رپورٹ نہیں ہوا، جس سے کچھ علاقوں میں صورتحال بہتر ہونے کے آثار ملے ہیں۔ تاہم عالمی طبی امدادی تنظیم میڈیسنز سان فرنٹیرز نے خبردار کیا کہ نگرانی کی خامیوں کی وجہ سے اصل تعداد رپورٹ شدہ سے زیادہ ہو سکتی ہے۔
یہ وبا بندوبگایو وائرس کی وجہ سے ہے، جو ایبولا کی ایک نایاب قسم ہے جس کے لیے کوئی منظور شدہ ویکسین یا مخصوص علاج موجود نہیں۔ وبا کا اعلان پندرہ مئی کو ہوا تھا، اور یہ دو ہزار چودہ سے دو ہزار سولہ میں مغربی افریقہ کی وبا کے بعد دنیا کی دوسری سب سے بڑی ایبولا وبا بن گئی ہے۔ عالمی ادارہ صحت نے سترہ مئی کو اسے بین الاقوامی تشویش کی عوامی صحت ایمرجنسی قرار دیا تھا۔
قابو پانے کی کوششوں کو تنازعات اور گہرے عدم اعتماد نے مشکل بنا دیا ہے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق اقوام متحدہ نے بتایا کہ اس ہفتے فوجیوں نے بونیا کے قریب کیگونزے میں ایبولا مریضوں کے ٹرانزٹ سینٹر کو نذر آتش کر دیا، جس سے انیس ہزار بے گھر افراد کو بھاگنا پڑا۔ بٹیمبو میں ایک مقامی سیاست دان ماری سیلسٹن کارونڈوا کو حکومتی اقدامات کے دفاع پر ہلاک کر دیا گیا۔ تنخواہوں کی عدم ادائیگی پر صحت کارکنوں نے بھی احتجاج کیا۔
بین الاقوامی امداد بڑھ رہی ہے۔ فرانس نے ایک کروڑ چونتیس لاکھ یورو مختص کیے ہیں، جبکہ ایک رپورٹ کے مطابق امریکہ نے اضافی چھبیس کروڑ ستر لاکھ ڈالر جاری کیے ہیں۔ صوبہ ایٹوری وبا کا مرکز ہے، جہاں چھ ہزار سے زائد کیس رپورٹ ہوئے۔ تاہم مسلح جھڑپوں سے ہزاروں بے گھر ہوئے ہیں اور بعض رہائشی ایبولا کو افواہ قرار دیتے ہیں، جس سے ماہرین کے مطابق قابو پانے میں کمیونٹی کے اعتماد کے بغیر کامیابی مشکل رہے گی۔
