بیجنگ — چین نے پیر کے روز کہا کہ امریکا کے ساتھ تجارتی جنگ بندی میں دو ماہ کی توسیع سے دونوں فریقوں کو اپنے طے شدہ انتظامات کے نفاذ کا جائزہ لینے اور تجارتی مذاکرات کو آگے بڑھانے کا طریقہ طے کرنے کی گنجائش ملے گی۔
رائٹرز کے مطابق 10 جنوری تک توسیع کی تصدیق کرتے ہوئے چین کی وزارت تجارت نے کہا کہ اس سے کمپنیوں کے درمیان تعاون اور مسلسل فعال مذاکرات کے لیے "نسبتاً مستحکم اور پیش گوئی کے قابل پالیسی ماحول” ملے گا۔
یہ توسیع گزشتہ ہفتے واشنگٹن میں منعقدہ صدر شی جن پنگ اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان اس سال کے دوسرے سربراہی اجلاس کے اہم نتائج میں سے ایک تھی۔ دونوں فریقوں کی تشکیل کردہ تجارتی کونسل کے تحت پہلے اقدامات میں سے ایک یہ ہوگا کہ تیس ارب ڈالر کے سامان پر باہمی محصولات میں کمی پر بات چیت کی جائے، جس کا مقصد مستحکم دوطرفہ اقتصادی اور تجارتی تعلقات برقرار رکھنا ہے۔
وزارت نے اپنے بیان میں کہا کہ اس سے امریکا کو متعلقہ چینی مصنوعات کی برآمد کے لیے بھی بہتر حالات پیدا ہوں گے۔ بیان کے مطابق دونوں فریقوں کی اقتصادی اور تجارتی ٹیمیں سرمایہ کاری کے ممکنہ مواقع اور رکاوٹوں، پالیسی کی شفافیت اور پیش گوئی، اور کاروباری اداروں کے جائز خدشات پر باقاعدہ مذاکرات کریں گی۔
دونوں ممالک تجارتی کونسل کے تحت زرعی امور کا ایک ورکنگ گروپ بھی قائم کریں گے جو رواں سال کے اختتام سے پہلے اپنا پہلا اجلاس منعقد کر کے زرعی مصنوعات کی دوطرفہ مارکیٹ رسائی اور ضابطوں پر بات کرے گا۔
سربراہی اجلاس میں 2027 اور 2028 میں چین کی جانب سے امریکا سے کوئلے کی درآمد کا معاہدہ بھی طے پایا۔ چینی وزارت نے کہا کہ "امریکی کوئلے کی درآمد نہ صرف چین کی مقامی کوئلہ مارکیٹ کے لیے فائدہ مند اضافی ذریعہ ہے بلکہ امریکی کوئلہ صنعت کے لیے مستحکم معاشی آمدنی اور روزگار بھی لاتی ہے۔”
