ہندو مندر پر حملے کی مبینہ سازش پر نوجوان پر فرد جرم عائد

Zark News illustration

پیلاٹائن، الینوائے — شکاگو کے نواحی علاقے کی پولیس کا کہنا ہے کہ ہندو مندر پر بڑے پیمانے پر فائرنگ کا مبینہ منصوبہ اس وقت ناکام ہوا جب ملزم کی رائفل جام ہو گئی اور ایک ساتھی کارکن نے حکام کو اطلاع دے دی، جس کے بعد 19 سالہ نوجوان کو گرفتار کر لیا گیا۔ استغاثہ کے مطابق ملزم خود کو سفید فام بالادستی کا حامی قرار دیتا تھا۔

پیلاٹائن کے رہائشی الیگزینڈروس پاپوراکس کو اتوار 11 اکتوبر کو گھر سے نکلتے وقت ماؤنٹ پراسپیکٹ اور پیلاٹائن پولیس نے مشترکہ کارروائی میں گرفتار کیا۔ کک کاؤنٹی اسٹیٹ اٹارنی آفس کے مطابق اس پر دہشت گردی کی دھمکی دینے اور غیر قانونی طور پر اسلحہ رکھنے کے سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

ساتھی کارکن کی اطلاع

تحقیقات اس وقت شروع ہوئیں جب آرلنگٹن ہائٹس میں ٹاکو بیل کے ملازمین نے، جہاں پاپوراکس کیشیئر کے طور پر کام کرتا تھا، پریشان کن پیغامات اور گفتگو کی اطلاع پولیس کو دی۔

  • ساتھی کارکنوں نے تفتیش کاروں کو بتایا کہ پاپوراکس کام کی جگہ پر خود کو سفید فام بالادستی کا حامی کہتا تھا اور بھارتی نژاد افراد کے خلاف بار بار توہین آمیز باتیں کرتا تھا۔
  • استغاثہ کے مطابق اس نے ایک ساتھی کارکن سے کہا تھا کہ وہ بھارتی لوگوں کو قتل کرنے کے لیے بے تاب ہے اور شکاگو سے تقریباً 70 کلومیٹر دور ارورہ کے سب سے بڑے ہندو مندر پر حملے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔
  • ایک اور ساتھی کارکن کے مطابق پاپوراکس نے اس اتوار کو ایک خاص دن قرار دیا تھا۔

پیلاٹائن پولیس کے مطابق اتوار کی سہ پہر ماؤنٹ پراسپیکٹ پولیس نے انہیں آگاہ کیا کہ پریشان کن الیکٹرانک پیغامات موصول ہوئے ہیں، جن میں رائفل، میگزین، بلٹ پروف جیکٹ اور دیگر جنگی سازوسامان کی تصاویر بھی شامل تھیں۔

جام ہو جانے والی رائفل

استغاثہ کے مطابق اتوار کو اس سے پہلے پاپوراکس نے ایک ساتھی کارکن کو فون کر کے بتایا کہ ٹریگر دبانے پر اس کی رائفل جام ہو گئی تھی اور وہ کسی کی نظر میں آئے بغیر تیزی سے فرار ہو گیا۔ بتایا گیا ہے کہ اس نے ساتھی کارکن کو رائفل کے فائر نہ ہونے کی ویڈیو اور جنگی جیکٹ پہنے اپنی تصویر بھی بھیجی، اور اسلحہ ٹھیک کر کے دوبارہ کوشش کرنے پر بات کی۔

تفتیش کاروں کا خیال ہے کہ اس نے اسی دن حملہ کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔ تاہم پولیس نے خبردار کیا ہے کہ مخصوص ہدف کی تصدیق نہیں ہوئی اور معاملہ اب بھی زیر تفتیش ہے۔ ارورہ پولیس نے علاقے کے ہندو مندروں کو اس خطرے سے آگاہ کر دیا ہے اور ایف بی آئی اس کے الیکٹرانک آلات کی جانچ میں مدد کر رہی ہے۔

منشور اور گھر سے برآمد اسلحہ

استغاثہ کا الزام ہے کہ پاپوراکس نے اپنے ساتھی کارکن کو آٹھ صفحات پر مشتمل ایک دستاویز بھیجی جس میں بھارتی، یہودی اور سیاہ فام افراد کو کمتر قرار دیا گیا تھا اور زیادہ سے زیادہ لوگوں کو قتل کرنے کا منصوبہ درج تھا۔ یہ بات ایسوسی ایٹڈ پریس کی حاصل کردہ عدالتی دستاویز میں سامنے آئی۔

اس کے گھر کی تلاشی میں درج ذیل اشیا برآمد ہوئیں:

  • بغیر سیریل نمبر والی AR طرز کی رائفل جس کی نالی 16 انچ سے چھوٹی تھی
  • متعدد بھری ہوئی میگزین اور سیکڑوں گولیاں
  • بلٹ پروف جیکٹ اور جنگی بنیان جس پر سفید فام انتہا پسندی کے نشانات تھے
  • ایک گیس کنستر جس پر جنوبی ایشیائی افراد کے خلاف توہین آمیز لفظ درج تھا

پیلاٹائن پولیس چیف ولیم نورڈ نے کہا کہ اس مبینہ خطرے کی سنگینی کو کسی صورت کم نہیں سمجھا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ عبادت گاہوں کا تحفظ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ترجیح ہے۔

الزامات اور ردعمل

پاپوراکس کو بدھ کو رولنگ میڈوز کی عدالت میں پیش کیا گیا جہاں جج نے اسے حراست میں رکھنے کا حکم دیا۔ الینوائے میں دہشت گردی کی دھمکی دینا کلاس X کا سنگین جرم ہے جبکہ چھوٹی نالی والی رائفل سے متعلق اسلحہ الزام کلاس 3 کا جرم ہے۔ اس کی اگلی پیشی 30 اکتوبر کو ہوگی۔ یہ فوری طور پر واضح نہیں ہو سکا کہ اسے قانونی نمائندگی حاصل ہے یا نہیں۔

امریکی رکن کانگریس راجا کرشنامورتی نے مبینہ سازش کے پیچھے بھارتی مخالف نفرت کی مذمت کی ہے۔

پاپوراکس کے خلاف الزامات ابھی الزامات ہی ہیں۔ اسے کسی جرم میں سزا نہیں ہوئی اور تفتیش جاری ہے۔

یہ رپورٹ پیلاٹائن پولیس ڈیپارٹمنٹ اور کک کاؤنٹی اسٹیٹ اٹارنی آفس کے بیانات پر مبنی ہے، جو ایسوسی ایٹڈ پریس اور سی این این کے ذریعے موصول ہوئے۔

یہ خبر شیئر کریں

غلطی نظر آئی؟ زرک نیوز سے رابطہ کریں