پولک کاؤنٹی، فلوریڈا — امریکی ریاست فلوریڈا میں سات روز تک جاری رہنے والی خفیہ کارروائی میں 281 افراد گرفتار کر لیے گئے۔ گرفتار افراد میں 17 ایسے افراد بھی شامل ہیں جنہوں نے تفتیش کاروں کو بتایا کہ وہ تھیم پارکس یا ریزورٹس میں کام کرتے ہیں، جن میں ڈزنی ورلڈ اور یونیورسل اسٹوڈیوز کے ملازمین بھی ہیں۔ یہ بات پولک کاؤنٹی شیرف آفس نے بتائی۔
شیرف گریڈی جڈ نے جمعہ 30 اکتوبر کو اس کارروائی کے نتائج کا اعلان کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ان کے دفتر کی اب تک کی سب سے بڑی خفیہ کارروائی ہے۔ فلوریڈا کے اٹارنی جنرل جیمز اتھمائر بھی اعلان کے موقع پر موجود تھے اور انہوں نے مقدمات کو انجام تک پہنچانے کا عزم ظاہر کیا۔
281 گرفتاریوں کی تفصیل
اس کارروائی میں بیک وقت دو محاذوں پر کام ہوا: ایک طرف بچوں سے جنسی ملاقات کے خواہشمند بالغ افراد اور دوسری طرف وہ جنسی کاروبار جو انسانی اسمگلنگ کو پروان چڑھاتا ہے۔ شیرف آفس کے مطابق:
- 31 گرفتاریاں بچوں کے مبینہ شکاریوں کی ہوئیں، جن کے بارے میں تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ انہوں نے آن لائن ان افراد سے رابطہ کیا جنہیں وہ بچے یا بچوں کے سرپرست سمجھتے تھے، اور پھر ملاقات کے لیے سفر کیا۔
- 239 گرفتاریاں جسم فروشی سے متعلق تھیں، جن میں جسم فروشی کی ترغیب دینا، اس کی پیشکش کرنا یا دوسروں کی مدد اور نقل و حمل شامل ہے۔
- 11 گرفتاریاں دیگر جرائم میں ہوئیں۔
- مجموعی طور پر ملزمان پر 488 الزامات عائد کیے گئے، جن میں 198 سنگین اور 290 معمولی نوعیت کے الزامات ہیں۔
گرفتار افراد میں تھیم پارک ملازمین بھی شامل
17 ملزمان نے تفتیش کاروں کو بتایا کہ وہ مقامی تھیم پارکس یا ریزورٹس میں کام کرتے ہیں، جن میں ڈزنی ورلڈ اور یونیورسل اسٹوڈیوز شامل ہیں۔ شیرف جڈ کے مطابق ان میں سے 13 ڈزنی اور 4 یونیورسل کے لیے کام کرتے تھے۔ ان 17 میں سے 7 کو بچوں کے مبینہ شکاریوں کے خلاف کارروائی میں گرفتار کیا گیا۔
ان میں سے ایک کلرمونٹ کا 24 سالہ کولن کلاکو ہے، جس نے تفتیش کاروں کو بتایا کہ وہ ڈزنی ورلڈ میں مکی ماؤس کا کردار ادا کرتا تھا۔ شیرف آفس کے مطابق اس نے ایک خفیہ اہلکار سے رابطہ کیا جو 13 سالہ لڑکے کے سرپرست کا روپ دھارے ہوئے تھا، اور پھر ملاقات کی جگہ پہنچا، جہاں اسے گرفتار کر لیا گیا۔
جڈ کے مطابق ڈزنی نے تفتیش کاروں کو بتایا کہ گرفتار ملازمین کو برطرف کر دیا گیا ہے۔ مقامی ٹیلی ویژن رپورٹس کے مطابق یونیورسل نے بھی گرفتار کارکنوں کو برطرف کر دیا۔ کسی بھی کمپنی پر ان مبینہ جرائم میں ملوث ہونے کا کوئی الزام نہیں ہے۔
گرفتار افراد میں ایک ڈپٹی اور ایک کوچ بھی شامل
گرفتاریاں صرف تھیم پارک ملازمین تک محدود نہیں رہیں۔ ان میں 40 سالہ ایرک ریمنڈ بھی شامل ہے، جو اورنج کاؤنٹی میں ڈپٹی شیرف ہے اور ایک ایلیمنٹری اسکول میں تعینات تھا۔ اسے جسم فروشی کی ترغیب کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔ اورنج کاؤنٹی شیرف آفس کے مطابق مقدمہ چلنے تک اسے قانون نافذ کرنے والی ذمہ داریوں سے ہٹا دیا گیا ہے۔
تفتیش کاروں نے بچوں کے فٹ بال اور چیئر لیڈنگ کوچ اور امریکی بحریہ کے ایک اہلکار کو بھی بچوں کے مبینہ شکاریوں کے خلاف کارروائی میں گرفتار کیا۔
انسانی اسمگلنگ کے 11 متاثرین کی نشاندہی
تفتیش کاروں اور سماجی خدمت کی تنظیموں نے ان 122 افراد کی جانچ کی جو جسم فروشی کے لیے سفر کر کے آئے تھے، تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ آیا وہ اسمگلنگ یا استحصال کا شکار تو نہیں۔ اس جانچ میں انسانی اسمگلنگ کے 11 متاثرین کی نشاندہی ہوئی۔ جانچ میں شامل تمام افراد کو موقع پر ہی مدد اور خدمات کی پیشکش کی گئی۔
جڈ نے کہا: "یہی وجہ ہے کہ والدین کے لیے انتہائی ضروری ہے کہ وہ نہ صرف اپنے بچوں کی آن لائن سرگرمیوں پر مسلسل نظر رکھیں، بلکہ یہ بھی جانیں کہ ان کے بچوں کی زندگیوں میں کون سے بالغ افراد شامل ہیں۔”
تمام گرفتاریاں الزامات کی حد تک ہیں۔ کسی بھی ملزم کو ابھی مجرم قرار نہیں دیا گیا، اور ان کے مقدمات اب عدالتوں میں جائیں گے۔
ماخذ: پولک کاؤنٹی شیرف آفس، 30 اکتوبر 2026۔
