بینک آف انگلینڈ نے شرح سود 4 فیصد کر دی، 2023 کے بعد پہلا اضافہ، مزید اضافے کی تنبیہ

لندن میں مرکزی بینک کی عظیم عمارت اور سرخ بس

تصویر: لندن میں مرکزی بینک کی عمارت۔ مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ تصویر۔

لندن — بینک آف انگلینڈ نے جمعرات کو تین سال سے زائد عرصے میں پہلی بار شرح سود بڑھا کر 4 فیصد کر دی اور تنبیہ کی کہ اگر امریکہ، اسرائیل اور ایران کی جنگ توانائی کی قیمتیں بڑھاتی رہی تو کم از کم ایک اور اضافہ ممکن ہے، رائٹرز کے مطابق۔

بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی نے 8 کے مقابلے میں 1 ووٹ سے چوتھائی فیصد اضافے کا فیصلہ کیا، جو اگست 2023 کے بعد پہلا اضافہ ہے۔ ایک رکن کیتھرین مان نے اس سے بڑے، نصف فیصد اضافے کے حق میں ووٹ دیا۔ شرح سود دسمبر 2025 سے 3.75 فیصد پر برقرار تھی۔

گورنر اینڈریو بیلی نے کہا کہ اس فیصلے کو ”طویل اضافوں کے سلسلے کا آغاز“ نہ سمجھا جائے، لیکن ساتھ یہ بھی کہا کہ مشرق وسطیٰ کا تنازع حل نہ ہوا تو یہ آخری اضافہ بھی نظر نہیں آتا۔

مہنگائی کی وجہ پھر توانائی

بینک کے مطابق اضافے کی وجہ جنگ سے بڑھتی توانائی کی قیمتیں ہیں، جنہوں نے عالمی تیل اور برطانیہ میں ایندھن کی لاگت بڑھا دی ہے۔ ستمبر تک ایک سال میں اشیائے خوردونوش اور خدمات کی قیمتوں میں 3.5 فیصد اضافہ ہوا، جو اگست کے 3.1 فیصد سے زیادہ ہے۔ بینک کو اب توقع ہے کہ مہنگائی اگلے سال کے وسط میں تقریباً 4.9 فیصد تک پہنچے گی اور 2028 سے پہلے 2 فیصد کے ہدف پر واپس نہیں آئے گی۔

گھرانوں پر اثر

شرح سود میں اضافہ برطانیہ بھر میں رہن، قرضوں اور کریڈٹ کارڈ کی لاگت بڑھاتا ہے، جبکہ بچت کنندگان کو کچھ زیادہ منافع ملتا ہے۔ کمیٹی کا اگلا فیصلہ 17 دسمبر کو ہوگا اور مہنگائی کے نئے اعداد 18 نومبر کو آئیں گے، جن سے واضح ہوگا کہ یہ اکیلا قدم تھا یا لمبے سلسلے کا آغاز۔

برطانیہ اس انتخاب میں اکیلا نہیں ہے۔ امریکی فیڈرل ریزرو نے گزشتہ ہفتے اپنی شرح 3.75 سے 4 فیصد کے درمیان برقرار رکھی، جبکہ یورپی مرکزی بینک کی صدر کرسٹین لیگارڈ کہہ چکی ہیں کہ دسمبر کی ملاقات سے پہلے مزید اعداد و شمار درکار ہیں، رائٹرز کے مطابق۔ آسٹریلیا کے اضافوں کا سلسلہ ختم ہو سکتا ہے جبکہ برازیل کے مرکزی بینک نے شرح میں کمی کا سلسلہ روک دیا ہے، جس سے سرمایہ کاروں کے لیے عالمی پالیسی کی سمت اب بھی غیر واضح ہے۔

عام برطانوی گھرانوں کے لیے اس فیصلے کا مطلب یہ ہے کہ رہن کی تازہ قیمتیں اگلے مہینوں میں اونچی رہیں گی اور ایندھن کے بل پہلے ہی بڑھ رہے ہیں، اس لیے گھریلو بجٹ پر دباؤ ایک ساتھ دو طرف سے پڑے گا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ دسمبر کا فیصلہ نومبر کی مہنگائی رپورٹ اور توانائی کی قیمتوں کی سمت پر منحصر ہوگا۔

یہ خبر شیئر کریں

غلطی نظر آئی؟ زرک نیوز سے رابطہ کریں