ٹیکنالوجی حصص میں شدید مندی، اے آئی تجارت کا غبار بیٹھنے لگا

وال اسٹریٹ پر نیویارک اسٹاک ایکسچینج

وال اسٹریٹ پر نیویارک اسٹاک ایکسچینج۔ تصویر: وکیمیڈیا کامنز، CC BY-SA 3.0۔

نیویارک — امریکی حصص بازار میں جمعرات کو شدید مندی دیکھنے میں آئی، خاص طور پر ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت سے جڑی کمپنیوں کے حصص تیزی سے گرے، کیونکہ سرمایہ کاروں نے ڈیموکریٹس کی وسط مدتی انتخابات میں بڑی کامیابی کے بعد اے آئی ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر پر اس کے اثرات کا ازسرنو جائزہ لینا شروع کر دیا، رائٹرز کے مطابق۔

نیسڈیک میں 5.5 فیصد، ایس اینڈ پی 500 میں 4.4 فیصد اور ڈاؤ جونز میں 3.4 فیصد کمی ہوئی، اور ایس اینڈ پی 500 کے تمام گیارہ شعبے مندی کا شکار ہوئے، رائٹرز کے مطابق۔ ٹیکنالوجی حصص 7.3 فیصد گرے اور فلاڈیلفیا چپ انڈیکس 12 فیصد گرا، جو اس کی تاریخ کی دوسری بڑی گراوٹ ہے۔ سین ڈسک 22 فیصد، مائیکرون، اے ایم ڈی اور مارویل تقریباً 17 فیصد تک گرے، جبکہ اے آئی کے عروج کی مرکزی کمپنی اینویڈیا میں 9 فیصد کمی ہوئی۔

رائٹرز کے مطابق ایک ہی دن میں نیسڈیک کی مجموعی مالیت سے تقریباً 2 کھرب ڈالر ختم ہو گئے، اور یہ انڈیکس اب ایک ماہ پہلے کی اپنی بلند ترین سطح سے 14 فیصد تک نیچے آ چکا ہے۔ بٹ کوائن 6 فیصد گرا، جبکہ آبنائے ہرمز کے قریب جہازوں پر حملوں کی خبروں کے بعد تیل کی قیمت میں 3 سے 4 فیصد اضافہ ہوا۔

سرمایہ کاروں کا رخ اچانک کیوں بدلا

صرف ایک دن پہلے انہی انتخابی نتائج پر ڈاؤ جونز میں 1,500 سے زائد پوائنٹس کا اضافہ ہوا تھا، کیونکہ بازاروں کو امید تھی کہ منقسم حکومت واشنگٹن میں سکون لائے گی اور ایران کے ساتھ جنگ ختم ہونے کے قریب ہوگی۔ جمعرات کو خدشہ یہ بنا کہ ڈیموکریٹس، جو جنوری سے کانگریس کے دونوں ایوانوں پر قابض ہوں گے، سخت قوانین اور توانائی و پانی کے استعمال کی جانچ کے ذریعے ڈیٹا سینٹرز کی تعمیر سست کر سکتے ہیں۔

ادھر ڈچ بینک آئی این جی تقریباً 50 کروڑ ڈالر کے ڈیٹا سینٹر قرضے یکمشت فروخت کر رہا ہے، بلومبرگ نیوز کے مطابق، جن میں نیو میکسیکو کے ایک بڑے ڈیٹا سینٹر سے جڑا ڈھائی کروڑ ڈالر کا قرض بھی شامل ہے۔ رائٹرز کا کہنا ہے کہ وہ اس رپورٹ کی فوری تصدیق نہیں کر سکا اور بینک نے تبصرے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔

آگے کیا ہوگا

شرح سود کے تاجروں نے فیڈرل ریزرو کی اگلی شرح اضافے کی توقع مارچ تک ٹال دی ہے۔ جمعہ کو اکتوبر کی ملازمتوں کی رپورٹ آئے گی، جس میں رائٹرز کے سروے کے مطابق 65 ہزار نئی ملازمتوں اور بے روزگاری کی شرح 4.2 فیصد پر برقرار رہنے کی توقع ہے۔ عام بچت کنندگان کے لیے یہ گراوٹ یاد دہانی ہے کہ بازار کی مالیت کا بڑا حصہ اب چند اے آئی کمپنیوں سے جڑا ہے۔

یہ خبر شیئر کریں

غلطی نظر آئی؟ زرک نیوز سے رابطہ کریں