صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کو کہا کہ امریکہ بیلاروس سے پوٹاش کی خریداری کے معاہدے پر کام کر رہا ہے۔ ان کے بقول اس کی قیمت اس سے نمایاں طور پر کم ہوگی جو واشنگٹن اس وقت کینیڈا کو ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے اسے امریکی کسانوں کے لیے اچھی خبر اور اوٹاوا کے ساتھ تجارتی تنازعات میں دباؤ بڑھانے کا ذریعہ قرار دیا۔
رائٹرز کے مطابق ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر لکھا: "امریکہ بیلاروس سے پوٹاش کی خریداری کے سلسلے میں ایک بڑے معاہدے پر کام کر رہا ہے۔” انہوں نے مزید لکھا کہ "قیمت اس سے نمایاں طور پر کم ہوگی جو ہم اس وقت کینیڈا کو ادا کر رہے ہیں — ہمارے کسانوں اور مویشی پالنے والوں کے لیے بہت اچھی خبر ہے۔”
پوٹاش — پوٹاشیم سے بھرپور معدنی کھاد — فصلوں کی پیداوار بڑھاتی اور بیماریوں سے بچاتی ہے، اور امریکہ اس کی درآمد پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے۔ کینیڈا امریکہ کو پوٹاش فراہم کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے۔ اس اعلان سے ظاہر ہوتا ہے کہ ٹرمپ اوٹاوا پر دباؤ کے لیے متبادل ذرائع استعمال کرنے کو تیار ہیں، حالانکہ دونوں ملکوں کے درمیان پہلے ہی وسیع تجارتی تنازعات چل رہے ہیں۔ رائٹرز کے مطابق کینیڈا-امریکہ تجارتی وزیر ڈومنک لوبلانک اور سسکیچیوان کی نیوٹرین — دنیا کی سب سے بڑی پوٹاش پیدا کرنے والی کمپنی — نے فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔
یہ بیان واشنگٹن اور منسک کے تعلقات میں مزید بہتری کا اشارہ ہے۔ بیلاروس کے صدر الیگزینڈر لوکاشینکو — جو روس کے قریبی حلیف ہیں — نے 11 ستمبر کو کہا تھا کہ واشنگٹن کی پابندیاں اٹھنے کے بعد بیلاروس نے امریکہ کو پوٹاش کی فروخت دوبارہ شروع کر دی ہے۔ لوکاشینکو نے یہ بھی کہا کہ وہ چاہتے ہیں امریکہ 40 ملین ڈالر سے زائد کی وہ رقم واپس کرے جو ان کے بقول امریکی بینکاری نظام میں پھنسی ہوئی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق رسد اصل رکاوٹ ہے۔ بیلاروس اور روس دونوں پوٹاش کے بڑے پیدا کنندگان ہیں، مگر پابندیوں اور لیتھوانیا کے بالٹک ساحل پر واقع ایک اہم بندرگاہ کی بندش کے باعث بیلاروس سے امریکہ تک ترسیل مہنگی ہو چکی ہے؛ قابلِ عمل راستے روس کے آرکٹک علاقے سے گزرتے ہیں۔ امریکہ کو روس سے پوٹاش مل رہی ہے، مگر کینیڈا بدستور سب سے بڑا سپلائر ہے۔
یہ بات واضح رہے کہ ٹرمپ کی پوسٹ کسی طے شدہ معاہدے کا اعلان نہیں بلکہ ارادے کا اظہار ہے: نہ کوئی کنٹریکٹ سامنے آیا ہے، نہ قیمتوں کا تعین ہوا ہے، نہ حجم یا ٹائم لائن طے ہوئی ہے، اور نہ ہی بیلاروس نے شرائط کی کوئی مماثل تصدیق کی ہے۔ بیلاروسی پوٹاش کے "نمایاں طور پر سستا” ہونے کا دعویٰ صدر کا اپنا ہے؛ اس مجوزہ معاہدے کی قیمتوں کا کوئی آزاد ڈیٹا جاری نہیں ہوا۔ اسے مکمل ہونے والی تجارت کے بجائے مذاکرات کے آغاز کے عندیے کے طور پر دیکھنا چاہیے۔
اگر ابتدائی خریداری کا معاہدہ بھی طے پاتا ہے تو یہ برسوں میں امریکہ اور بیلاروس کے درمیان اہم ترین معاشی پیش رفتوں میں سے ایک ہوگا — اور کینیڈا کے خلاف سودے بازی کا ایک اہم مہرہ بھی، کیونکہ امریکی زرعی شعبہ پوٹاش کے لیے سب سے زیادہ کینیڈا پر انحصار کرتا ہے۔ اصولی طور پر کسانوں کے لیے کم لاگت خوش آئند ہے، مگر ترسیل اتنی ہی قابلِ اعتماد ہوگی جتنی پابندیاں اور رکاوٹیں اجازت دیں گی، جنہوں نے اب تک بیلاروسی پوٹاش کی نقل و حمل مہنگی بنا رکھی ہے۔
اب نظر اس پر ہوگی کہ آیا امریکہ اور بیلاروس شرائط کا کوئی باضابطہ اعلان کرتے ہیں، اوٹاوا کا ردعمل کیا ہوتا ہے، اور کیا یہ معاملہ ٹروتھ سوشل پوسٹ سے آگے بڑھ کر خریداری کے کسی عملی انتظام تک پہنچتا ہے۔ وائٹ ہاؤس یا کامرس ڈپارٹمنٹ کا کوئی فالو اپ بیان ہی پہلی حقیقی تصدیق ہوگا کہ یہ معاملہ آگے بڑھ رہا ہے۔
22 ستمبر 2026 کی تازہ کاری
لیتھوانیا نے پیر کو کہا کہ یورپی یونین کے پاس بیلاروس پر پابندیاں نرم کرنے کی کوئی وجہ نہیں — یوں واشنگٹن کی پوٹاش معاہدے کی کوشش کے دوران امریکہ اور یورپ کے درمیان واضح اختلاف سامنے آ گیا۔ وزیرِ خارجہ کیستوتس بودریس نے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر رائٹرز کو انٹرویو میں کہا کہ الیگزینڈر لوکاشینکو کی حکومت "مخالفین کو دبانے، انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور یوکرین میں روس کی جنگ کی حمایت جاری رکھے ہوئے ہے۔”
بودریس نے کہا: "ہمیں بیلاروس کے بارے میں اپنا مؤقف نرم کرنے کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی، کیونکہ بیلاروس اپنا رویہ نہیں بدل رہا۔” ان کے بقول پابندیوں پر یورپی یونین کا نقطہ نظر واشنگٹن سے "قدرے مختلف” ہے — ولنیئس دونوں فریقوں کے درمیان ہم آہنگی چاہے گا، مگر بلاک کو دباؤ برقرار رکھنا چاہیے۔
یورپی یونین کے اس مؤقف کے ٹرمپ کے اعلان کردہ منصوبے پر عملی اثرات مرتب ہوں گے۔ بودریس نے لیتھوانیائی نشریاتی ادارے ایل آر ٹی کو بتایا کہ یورپی پابندیاں بیلاروسی پوٹاش کے یورپی علاقے میں داخلے یا وہاں سے گزرنے پر پابندی لگاتی ہیں — قطع نظر اس کے کہ مالک یا جہاز رانی کمپنی کون ہو۔ اس سے 2022 سے پہلے لیتھوانیا کی کلائپیڈا بندرگاہ سے برآمد کا راستہ خارج ہو جاتا ہے، جہاں سے بیلاروسکالی کی پوٹاش بھارت، چین اور برازیل سمیت کئی ملکوں کو بھیجی جاتی تھی، یہاں تک کہ ولنیئس نے 2022 میں برآمدات روک دیں۔ بودریس کے مطابق واشنگٹن کی کوششوں سے رہا ہونے والے قیدیوں کے باوجود بیلاروس میں تقریباً ایک ہزار سیاسی قیدی بدستور قید ہیں۔
اس اختلاف سے ٹرمپ کے اعلان کردہ ارادے کی حیثیت ختم نہیں ہوتی: امریکہ نے مارچ میں بیلاروسی پوٹاش پر اپنی پابندیاں اس وقت اٹھا لی تھیں جب بیلاروس نے امریکہ کی ثالثی میں طے پانے والے سمجھوتے کے تحت 250 قیدی رہا کیے تھے۔ البتہ یورپی پابندیاں فروری 2027 تک نافذ العمل ہیں اور ان میں توسیع بھی ہو سکتی ہے۔ عملی نتیجہ یہ ہے کہ ترسیل کے راستے محدود رہیں گے — امریکی خریداروں کے لیے سب سے سستا راستہ، کلائپیڈا بندرگاہ، یورپی قانون کے تحت بند رہے گا، اور وہی مہنگا لاجسٹک مسئلہ پھر سر اٹھائے گا جس کی تجزیہ کار نشاندہی کر چکے ہیں۔ جواب میں بیلاروسی اپوزیشن رہنما سویتلانا تسیخانوسکایا نے ایل آر ٹی کو بتایا کہ پوٹاش کی برآمدات لوکاشینکو کی آمدنی کا بنیادی ذریعہ ہیں اور یہ آمدنی جبر اور روس کی جنگی مہم کو تقویت دے گی — یہ اپوزیشن کا بیان کردہ مؤقف ہے، آزادانہ تحقیق نہیں۔
ذرائع
- رائٹرز، 21 ستمبر 2026: "ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکہ بیلاروس سے پوٹاش خریدنے کے معاہدے پر کام کر رہا ہے” (رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ٹرمپ کا ٹروتھ سوشل بیان)
- رائٹرز، 21 ستمبر 2026: "بیلاروس پر مؤقف نرم کرنے کا وقت نہیں، لیتھوانیا کا کہنا ہے”
- ایل آر ٹی/ڈیلی بالٹک، 21 ستمبر 2026: "بودریس: امریکہ-بیلاروس کھاد معاہدے کا لیتھوانیا پر براہِ راست اثر نہیں پڑے گا”
