شمالی کوریا نے ٹیکٹیکل میزائلوں کے لیے کلسٹر بم وار ہیڈ کا تجربہ کر لیا

ایک ٹیکٹیکل بیلسٹک میزائل کی لانچ اور وسیع ہدف والے علاقے پر چھوٹے بم بکھیرتے وار ہیڈ کی ادارتی تصویر

مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ تصویر۔ شمالی کوریا نے کہا کہ ٹیکٹیکل بیلسٹک میزائلوں کے لیے نئے کلسٹر بم وار ہیڈ کا تجربہ 31 اکتوبر کو کیا گیا۔

سیول — شمالی کوریا نے اتوار کو کہا ہے کہ اس نے ایک ایسے کلسٹر بم وار ہیڈ کا تجربہ کیا ہے جو ٹیکٹیکل بیلسٹک میزائلوں پر لگایا جا سکتا ہے۔ یہ تجربہ ہفتہ 31 اکتوبر کو کیا گیا۔ یہ بات شمالی کوریا کے سرکاری ذرائع ابلاغ، کورین سینٹرل نیوز ایجنسی نے بتائی، جس کی خبر جنوبی کوریا کی خبر رساں ایجنسی یونہاپ نے دی ہے۔ اگر یہ دعویٰ درست ہے تو شمالی کوریا کے کم فاصلے تک مار کرنے والے ہتھیاروں میں ایک نیا اور خوفناک اضافہ ہو جائے گا۔

کے سی این اے کے مطابق ملک کی میزائل انتظامیہ نے یہ تجربہ اس لیے کیا تاکہ وار ہیڈ کی جنگی صلاحیت اور اس کی طاقت کو پرکھا جا سکے۔ اس کام میں شامل تحقیقی اداروں نے کہا کہ یہ وار ہیڈ، جسے "اسٹینڈرڈ ٹائپ 2” کہا گیا ہے، سب سے زیادہ گنجان حالت میں 12 سے 13 ہیکٹر کے ہدف والے علاقے کو تباہ کر سکتا ہے۔ کے سی این اے نے اس سے بھی سخت الفاظ استعمال کیے اور کہا کہ یہ وار ہیڈ ایسے علاقے کو "راکھ میں بدل” سکتا ہے۔ یہ اعداد و شمار شمالی کوریا کے اپنے دعوے ہیں۔ ان کی آزادانہ تصدیق نہیں ہوئی ہے، اور اتوار کو کسی بیرونی فریق نے نقصان کے اس اندازے کی تائید نہیں کی۔ قارئین کو یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے۔

جنوبی کوریا کی فوج نے کہا کہ اس نے اس لانچ کی نگرانی کی تھی۔ یونہاپ کی رپورٹ کے مطابق ایک میزائل شمالی کوریا کے شمال مغرب میں واقع چونگجو کے قریب سے بحیرہ زرد کی طرف داغا گیا، جسے کوریا میں مغربی سمندر کہا جاتا ہے۔ کوریا ڈیفنس اینڈ سیکیورٹی فورم کے تجزیہ کار شن جونگ وو نے کہا کہ یہ میزائل بظاہر ہواسونگ 11 خاندان سے تعلق رکھتا تھا۔ یہ کم فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائلوں کی ایک قسم ہے جس کا شمالی کوریا حالیہ برسوں میں بار بار تجربہ کر چکا ہے اور جسے میدان جنگ میں استعمال کے لیے مسلسل بہتر بنایا جا رہا ہے۔

شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان اس تجربے میں موجود نہیں بتائے گئے۔ کے سی این اے کے مطابق جنرل کم جونگ سک نے اس کام کی نگرانی کی۔ یہ تفصیل اہم ہے کیونکہ شمالی کوریا اکثر رہنما کی موجودگی سے کسی تجربے کی اہمیت ظاہر کرتا ہے۔ اس کے برعکس اپریل میں شمالی کوریا نے ہواسونگ 11 را میزائل پر کلسٹر بموں کا تجربہ کیا تھا اور اس کی نگرانی خود کم جونگ ان نے اپنی بیٹی جو آئے کے ساتھ کی تھی۔ ہفتے کا تجربہ رہنما کے بجائے ایک سینئر جنرل کی نگرانی میں ہوا، اس لیے پیانگ یانگ نے اسے ایک بڑے سیاسی واقعے کے بجائے ایک تکنیکی قدم کے طور پر پیش کیا۔

کے سی این اے نے کہا کہ کلسٹر وار ہیڈز کو مقصد کے لحاظ سے چار اقسام میں تقسیم کیا جاتا ہے، اور شمالی کوریا اس سال کے آخر تک مختلف اقسام کے یہ وار ہیڈز اپنی فوجی یونٹوں کو دے دے گا۔ کلسٹر ہتھیار ایک ہی جگہ پر گرنے کے بجائے بہت سے چھوٹے بم ایک وسیع علاقے میں بکھیر دیتے ہیں۔ بہت سے ممالک نے ان پر پابندی لگا رکھی ہے کیونکہ نہ پھٹنے والے چھوٹے بم برسوں تک زمین پر پڑے رہ سکتے ہیں اور لڑائی ختم ہونے کے بہت بعد بھی شہریوں کو مار یا زخمی کر سکتے ہیں۔ شمالی کوریا، جنوبی کوریا اور امریکہ ان ہتھیاروں پر پابندی لگانے والے بین الاقوامی معاہدے کے فریق نہیں ہیں۔

یہ تجربہ ایک حساس سفارتی وقت پر ہوا ہے۔ جنوبی کوریا، امریکہ اور جاپان کے اعلیٰ سفارت کار اٹلانٹا میں ملے اور انہوں نے شمالی کوریا کو جوہری ہتھیاروں سے مکمل طور پر پاک کرنے کے اپنے مطالبے کو پھر دہرایا۔ ہفتے کو وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کم جونگ ان سے بات چیت کے لیے تیار ہیں، بشرطیکہ پیانگ یانگ تشویش کے معاملات پر بات کرنے پر راضی ہو۔ تاہم روبیو نے واضح کیا کہ ابھی کوئی ملاقات طے نہیں ہوئی ہے۔ ایک طرف بات چیت کی بات ہو رہی تھی اور دوسری طرف ایک نئے ہتھیار کا تجربہ کیا جا رہا تھا۔

اس خبر کی اہمیت اس ہتھیار کی مار اور اس کے ہدف میں ہے۔ ٹیکٹیکل بیلسٹک میزائل میدان جنگ میں یا اس کے قریب استعمال کے لیے بنائے جاتے ہیں، دور دراز براعظموں کے لیے نہیں۔ اس لیے ایسے میزائل پر لگا کلسٹر وار ہیڈ سیدھا جنوبی کوریا اور خطے کے اڈوں اور افواج کے لیے خطرہ ہے۔ آگے کیا ہوگا، اس کا انحصار دو باتوں پر ہے۔ فوجی سطح پر بیرونی تجزیہ کار مزید تجربات اور ان علامات پر نظر رکھیں گے کہ آیا یہ وار ہیڈز واقعی اگلی صف کی یونٹوں کو بھیجے جا رہے ہیں، جیسا کہ کے سی این اے نے کہا ہے۔ سفارتی سطح پر واشنگٹن، سیول اور ٹوکیو کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ یہ نیا تجربہ بات چیت اور جوہری ہتھیار ختم کرنے کے ان کے نئے مطالبے پر کیا اثر ڈالے گا۔

یہ خبر شیئر کریں

غلطی نظر آئی؟ زرک نیوز سے رابطہ کریں