تہران — ایران کے سپریم لیڈر مجتبی خامنہ ای نے ملک کی مسلح افواج کو حکم دیا ہے کہ امریکہ یا اسرائیل کے کسی بھی نئے حملے کا فوری اور بغیر کسی جغرافیائی حد کے جواب دیا جائے۔ ان کے دفتر نے ہفتے کو یہ بیان جاری کیا، جبکہ یہ خدشہ بڑھ رہا ہے کہ منگل کے امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد جنگ دوبارہ شروع ہو سکتی ہے۔
ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق خامنہ ای نے اعلی فوجی کمانڈروں سے کہا کہ ہر طرح اور ہر سطح کے خطرے کا فوری اور مضبوط جواب دیا جائے۔ انہوں نے کمانڈروں کو حکم دیا کہ ایران کی اہداف کی فہرست کو تازہ کیا جائے اور اس میں دشمن کے تمام مادی اور غیر مادی اثاثے شامل کیے جائیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر حملے دوبارہ شروع ہوئے تو یہ ایران طے کرے گا کہ لڑائی کب اور کن شرائط پر ختم ہوگی۔
یہ مارچ میں عہدہ سنبھالنے کے بعد خامنہ ای کی اعلی فوجی قیادت سے پہلی رپورٹ شدہ ملاقات تھی۔ ان کے والد علی خامنہ ای، جو 1989 سے ایران کے رہبر تھے، 28 فروری کو جنگ کے پہلے امریکی اور اسرائیلی حملوں میں ہلاک ہو گئے تھے۔ ایران کی فوج نے بھی ہفتے کو خبردار کیا کہ کوئی بھی نیا امریکی حملہ جنگ کو مزید پھیلا دے گا۔
واشنگٹن میں وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نئے حملوں کا کوئی فیصلہ نہیں کیا۔ ہفتے کو اٹلانٹا میں ایک نیوز کانفرنس میں روبیو نے کہا کہ امریکہ اگر چاہے تو فوجی اہداف حاصل کر سکتا ہے، لیکن صدر نے ابھی فیصلہ نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ قطر سمیت ثالثوں کے ذریعے بات چیت کبھی رکی نہیں، اور واشنگٹن ایک ایسے معاہدے کے لیے تیار ہے جو امریکی سلامتی کا تحفظ کرے اور تنازع کی اصل وجوہات کو حل کرے۔
یہ دونوں بیانات ایک کشیدہ لمحے میں سامنے آئے ہیں۔ ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملے یکم ستمبر سے رکے ہوئے ہیں، لیکن ٹرمپ نے حالیہ ہفتوں میں اپنی دھمکیاں تیز کر دی ہیں۔ 8 اکتوبر کو انہوں نے کہا تھا کہ 3 نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے پہلے کوئی نیا حملہ نہیں ہوگا۔ گزشتہ ہفتے ٹیکساس کی ایک ریلی میں انہوں نے کہا کہ چند ہفتوں میں ایران کے بارے میں دیکھیں گے، اور ایک ٹیلی ویژن انٹرویو میں کہا کہ وہ فیصلہ کر رہے ہیں کہ ایران سے معاہدہ کریں یا معاملہ ختم کر دیں۔ دو امریکی حکام نے گزشتہ ہفتے سی این این کو بتایا کہ مشرق وسطی میں امریکی افواج صدر کے حکم کے 96 گھنٹوں کے اندر نئی کارروائی شروع کرنے کے لیے تیار ہیں۔
ایران نے فی الحال امریکہ سے براہ راست بات چیت سے انکار کر دیا ہے۔ وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ امریکی حکام سے ملاقاتوں کا فی الحال کوئی منصوبہ نہیں۔ الگ سے، اعلی سیکیورٹی اہلکار محسن رضائی نے کہا کہ ایران میں یہ بحث ہو رہی ہے کہ اگر لڑائی دوبارہ شروع ہوئی تو ایٹمی ہتھیاروں پر دیرینہ پابندی برقرار رکھی جائے یا نہیں۔ یہ ایک بحث ہے، فیصلہ نہیں: پالیسی میں کسی تبدیلی کا اعلان نہیں ہوا۔
اس معاملے کی اہمیت خطے سے باہر بھی ہے۔ 28 فروری سے شروع ہونے والی جنگ ایندھن کی قیمتوں اور جہاز رانی کو پہلے ہی متاثر کر چکی ہے۔ ایران پہلے خبردار کر چکا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز میں زیر سمندر کیبلز کاٹنے پر غور کر سکتا ہے۔ یہ تنگ آبی گزرگاہ دنیا کے تیل اور گیس کا بڑا حصہ لے کر جاتی ہے۔ نئے حملے اور بغیر حد کے ایرانی جواب سے پورے مشرق وسطی میں جہازوں، اڈوں اور شہروں کے لیے خطرہ بڑھ جائے گا۔ اگلا مرحلہ منگل کے ووٹ کے بعد کے دنوں پر منحصر ہے۔
