پاکستانی فوج کا کہنا ہے کہ وہ ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی پر محتاط طور پر پر امید ہے

مذاکراتی میز کے گرد جھنڈوں اور طلوع ہوتے سورج کی تصویری جھلک

مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ تصویر۔

راولپنڈی — پاکستانی فوج کا کہنا ہے کہ وہ ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کی کوششوں پر محتاط طور پر پر امید ہے۔ یہ بات رائٹرز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہی گئی جو جمعہ کو شائع ہوا۔

فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے یہ انٹرویو اس ہفتے ایک اعلی سطح کے پاکستانی وفد کے دورہ تہران کے بعد اپنے پہلے انٹرویو میں دیا۔ رائٹرز کے مطابق انہوں نے کہا کہ فوج ثالثی کے بارے میں محتاط طور پر پر امید ہے۔

یہ انٹرویو رائٹرز کے صحافی رک نواک نے 30 اکتوبر کو رپورٹ کیا۔ اس انٹرویو کی رپورٹ یہاں پڑھی جا سکتی ہے۔

رائٹرز کے مطابق آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر ایران جنگ میں کشیدگی کم کرنے کی کوششوں میں پاکستان کے مرکزی ثالث ہیں۔ یہ جنگ اب آٹھ ماہ سے جاری ہے۔ اس جنگ نے خطے میں اتحادوں کو تبدیل کر دیا ہے اور ایک وسیع تر تنازع کا خوف بڑھا دیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق عاصم منیر اس ماہ دو بار تہران گئے ہیں۔ ان کا تازہ ترین دورہ پیر کو ہوا، جب وہ سعودی اور ترک حکام کے ساتھ گئے تھے۔ یہ دورہ اسی اعلی سطح کے وفد کا حصہ تھا جو اس ہفتے ایران گیا تھا، جس کے بعد چوہدری نے انٹرویو دیا۔

چوہدری سے مکہ سے منسلک دفاعی معاہدے کے بارے میں بھی پوچھا گیا۔ جب ان سے سوال کیا گیا کہ کیا ایران اس میں شامل ہو سکتا ہے تو انہوں نے کہا کہ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے الفاظ نئے ارکان کو شامل ہونے سے نہیں روکتے، رائٹرز کے مطابق۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ معاہدہ اس وقت مزید اہمیت اختیار کر گیا ہے جب ایران جنگ خطے کے اتحادوں کو نئی شکل دے رہی ہے۔ چوہدری نے یہ نہیں کہا کہ ایران شامل ہوگا، انہوں نے صرف یہ کہا کہ معاہدے کے الفاظ نئے ارکان کی شمولیت کو نہیں روکتے۔

ان بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان تنازع میں شامل ممالک کے درمیان مرکزی کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ پاکستان نے ایران، امریکہ، سعودی عرب اور ترکی کے ساتھ تعلقات برقرار رکھے ہیں اور اس کے آرمی چیف کو مذاکرات کے مرکز میں رکھا گیا ہے۔

چوہدری نے ملک کے اندر کی صورت حال پر بھی بات کی، جس میں خیبر پختونخوا بھی شامل ہے۔ وفاقی حکومت نے 11 اکتوبر کو خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت معطل کر دی اور وزیر اعلی سہیل آفریدی کو حراست میں لے لیا۔

حکومت نے صوبائی انتظامیہ پر الزام لگایا کہ وہ عسکریت پسندی سے نمٹنے میں ناکام رہی۔ پی ٹی آئی نے ان الزامات کو مسترد کر دیا۔ پارٹی نے کہا کہ اس نے انسداد دہشت گردی کے کام میں حصہ لیا اور اس اقدام کو احتجاج کو کچلنے کا بہانہ قرار دیا۔

جب چوہدری سے خیبر پختونخوا میں فوج کی قیادت میں بڑی کارروائیوں کے بارے میں پوچھا گیا تو رائٹرز کے مطابق انہوں نے کہا کہ فوج اس طرح انسداد دہشت گردی نہیں کرتی۔ انہوں نے صوبے میں کسی نئی کارروائی کی تفصیل نہیں دی۔

خیبر پختونخوا کا پس منظر فروری 2024 کے عام انتخابات سے جڑا ہے۔ اس انتخابات میں پی ٹی آئی کے حمایت یافتہ آزاد امیدواروں نے براہ راست منتخب نشستوں میں سب سے زیادہ نشستیں جیتیں، لیکن قومی سطح پر انہیں اکثریت حاصل نہیں ہوئی۔

خیبر پختونخوا واحد صوبہ تھا جس پر پی ٹی آئی کی حکومت تھی۔ اس وجہ سے 2024 کے انتخابات کے بعد یہ صوبہ پارٹی کے لیے ایک اہم مرکز بن گیا، اور وفاقی حکومت کا 11 اکتوبر کا فیصلہ ایک بڑا سیاسی قدم بن گیا۔

یہ معاملہ دو سطحوں پر اہم ہے۔ بیرون ملک، ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات میں کوئی بھی پیش رفت اس جنگ کے خطرے کو کم کر سکتی ہے جو پہلے ہی آٹھ ماہ سے جاری ہے۔ ملک کے اندر، خیبر پختونخوا اور عسکریت پسندی کے معاملے پر وفاقی حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان اختلاف شدید ہے اور دونوں فریق بہت مختلف موقف پیش کر رہے ہیں۔

آگے کیا ہوگا اس کا انحصار اس پر ہوگا کہ تہران کے دورے مزید مذاکرات کی طرف لے جاتے ہیں یا نہیں، اور کیا دیگر ممالک پاکستان کے ذریعے کام جاری رکھتے ہیں۔ فی الحال فوج کا اپنا پیغام، چوہدری کے رائٹرز کو کہے گئے الفاظ میں، امید کے ساتھ احتیاط کا ہے۔

یہ خبر شیئر کریں

غلطی نظر آئی؟ زرک نیوز سے رابطہ کریں