اسلحے کی ترسیل اور ملاحوں کی ہلاکتوں کے خلاف 22 ممالک کی 113 بندرگاہوں پر ڈاک مزدوروں کی ہڑتال

بندرگاہ پر کرینوں، کنٹینروں اور کارگو جہاز کی تصویری جھلک

مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ تصویر۔

پیرایوس — یورپ اور اس سے باہر جمعے کو ڈاک مزدوروں نے ہڑتال کی، جس سے جہاز رانی اور فیری سروس متاثر ہوئی۔ رائٹرز کے مطابق یہ احتجاج بندرگاہوں کو اسلحے کی ترسیل کے لیے استعمال کرنے اور خلیج سے بحیرہ اسود تک جنگوں میں مارے جانے والے ملاحوں کے خلاف تھا۔ یہ ہڑتال 22 ممالک کی 113 بندرگاہوں تک پھیلی۔

اس ہڑتال کی کال اصل میں اٹلی، فرانس، یونان، اسپین کے باسک علاقے، ترکی اور مراکش میں دی گئی تھی، اور 25 سے زیادہ مزدور تنظیموں نے اس کی حمایت کی۔ جمعے کو جن بڑی بندرگاہوں پر کام رکا، ان میں یونان کی پیرایوس، اسپین کی ویلنسیا اور الجی سیراس، فرانس کی لی ہاور، اٹلی کی جینوا، مراکش کی تانجیر میڈ اور بھارت کی نھاوا شیوا شامل تھیں۔

مزدور تنخواہوں میں اضافے اور کام کے بہتر حالات کا مطالبہ بھی کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جنگی علاقوں سے گزرنے والے جہازوں پر ڈاکٹر موجود ہونے چاہئیں۔ یونینیں اس مطالبے کو براہ راست ان اموات اور زخموں سے جوڑتی ہیں جو حالیہ مہینوں میں سمندر میں عملے کو پیش آئے ہیں۔

احتجاج میں پیش کیے گئے یونین اعداد و شمار حملوں میں تیزی سے اضافے کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ یونینوں کے مطابق اکتوبر کے پہلے 21 دنوں میں خلیج میں جہازوں پر 28 حملے ہوئے، جو ایران جنگ شروع ہونے کے بعد ایک ریکارڈ ہے۔ بحیرہ اسود میں اس سال اب تک 570 تصدیق شدہ حملے گنے گئے ہیں، جن میں 40 ملاح ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوئے۔ مجموعی طور پر ملاحوں کی ہلاکتوں اور زخمیوں کی تعداد سینکڑوں میں بتائی گئی ہے۔

یونان کی سب سے بڑی بندرگاہ پیرایوس میں کارگو کا کام متاثر ہوا اور یونانی جزائر کو جانے والی فیریاں معطل ہو گئیں۔ وہاں تقریبا 3,000 ڈاک مزدوروں اور ملاحوں نے احتجاج میں حصہ لیا، جس سے یہ ہڑتال کے سب سے نمایاں مقامات میں سے ایک بن گئی۔

احتجاج بھارت تک بھی پہنچا۔ بھارت کی واٹر ٹرانسپورٹ ورکرز فیڈریشن نے کہا کہ ایران جنگ کے نتیجے میں تقریبا 15 بھارتی ملاح ہلاک ہو چکے ہیں، اور کئی دیگر پھنسے ہوئے ہیں۔

نو ہاربر فار جینوسائیڈ نامی گروپ نے کہا کہ اس احتجاج سے تقریبا 52,000 کنٹینر رک جائیں گے اور 2.8 ارب ڈالر مالیت کا سامان پھنس جائے گا۔ رائٹرز نے کہا کہ وہ اس دعوے کی آزادانہ تصدیق نہیں کر سکا، اس لیے یہ اعداد و شمار اسی گروپ کے بیان کے طور پر پیش کیے جا رہے ہیں۔

جمعے کی ہڑتال بندرگاہوں کی یونینوں کے اس پہلے مشترکہ موقف کا تسلسل ہے جو اس سے پہلے سامنے آیا تھا۔ مئی 2026 میں 35 سے زیادہ یورپی ممالک کی یونینوں نے استنبول اعلامیہ جاری کیا تھا، جس میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ بندرگاہوں کو جنگی علاقوں تک ہتھیار پہنچانے کے لیے استعمال نہ کیا جائے۔

اس ہڑتال میں دو مطالبات ایک ساتھ سامنے آئے ہیں، جنہیں یونینیں ایک دوسرے سے جڑا سمجھتی ہیں۔ ایک طرف شہری بندرگاہوں سے ہتھیاروں کی نقل و حرکت کی مخالفت ہے، اور دوسری طرف ان ملاحوں کے لیے بنیادی تحفظ کا مطالبہ ہے جن کے جہاز انہی پانیوں سے گزرتے ہیں جہاں یہ جنگیں لڑی جا رہی ہیں۔ ایک ہی دن میں 22 ممالک کی بندرگاہیں متاثر ہونے سے سامان کی ترسیل اور مسافروں کا سفر کسی ایک ملک سے کہیں آگے تک متاثر ہوا، جبکہ تنخواہوں، حالات اور حفاظت پر بات چیت ابھی حل طلب ہے۔

یہ خبر شیئر کریں

غلطی نظر آئی؟ زرک نیوز سے رابطہ کریں