اسلام آباد — پاکستان تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی نے منگل کو اعلان کیا کہ وہ مجوزہ 28ویں آئینی ترمیم کی حمایت صرف اس سخت شرط پر کرے گی کہ جماعت کے بانی عمران خان کو فوری رہا کیا جائے۔ ڈی این اے نیوز ایجنسی کے مطابق یہ فیصلہ پارلیمانی پارٹی کے اعلی سطح اجلاس میں کیا گیا۔
یہ اجلاس مجوزہ آئینی تبدیلیوں اور جماعت کے اسٹریٹجک سیاسی موقف پر غور کے لیے بلایا گیا تھا۔ ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق سینیئر رہنماوں نے دہرایا کہ حکومت کے ساتھ کوئی بھی سیاسی اتفاق رائے یا آئینی رابطہ عمران خان کی رہائی اور جماعت کو درپیش قانونی کارروائیوں کی واپسی سے مشروط رہے گا۔ اس اعلان نے ایک عمومی مطالبے کو پی ٹی آئی کے ووٹوں کی واضح قیمت میں بدل دیا ہے کیونکہ پاکستان میں تمام آئینی ترامیم کی طرح اس اقدام کے لیے بھی پارلیمنٹ میں دو تہائی اکثریت درکار ہوگی اور یہ حساب کسی بڑے اپوزیشن اتحاد کو فیصلہ کن بنا سکتا ہے۔
منگل کا اجلاس وہی فورم تھا جس کی خبر زرک نیوز نے ایک دن پہلے دی تھی جب پی ٹی آئی رہنماوں میں اس بات پر عوامی اختلاف سامنے آیا تھا کہ فیصلہ سازی کا اختیار درحقیقت کس حد تک پارلیمانی پارٹی کو منتقل ہوا ہے۔ بیرسٹر علی ظفر نے کہا تھا کہ اختیارات پارلیمانی پارٹی کو منتقل کر دیے گئے ہیں جبکہ چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان اور سیکرٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے مکمل منتقلی کی تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ بیشتر فیصلوں کا اختیار کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کے پاس ہے۔ ترمیم کی شرط اس اجلاس کا پہلا عوامی اعلان شدہ فیصلہ ہے اور یہ جماعت کی پارلیمانی طاقت کو براہ راست اس کے قید بانی سے جوڑتا ہے۔
عمران خان تین سال سے زیادہ عرصے سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں اور پی ٹی آئی نے ان تک رسائی اور ان کی رہائی کو اپنی سیاست کا مرکز بنا رکھا ہے۔ جماعت اسی دوران خیبر پختونخوا میں 11 اکتوبر کو نافذ ایمرجنسی اور گورنر راج کے خلاف بھی لڑ رہی ہے جس سے پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت ختم ہو گئی تھی۔ گوہر نے ایمرجنسی کو پشاور ہائی کورٹ میں سنگین سیاسی غلطی قرار دے کر چیلنج کیا ہے۔ پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ اس کے کئی منتخب ارکان لگ بھگ دو ہفتوں سے لاپتا ہیں اور وہ ان کی بازیابی اور وکلا تک رسائی کا مطالبہ کرتی ہے، تاہم یہاں خلاصہ کی گئی رپورٹس میں حکام نے ان دعووں کی تصدیق نہیں کی۔ وفاقی حکومت نے ایمرجنسی کا دفاع سکیورٹی بنیادوں پر کیا ہے اور وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کہہ چکے ہیں کہ پی ٹی آئی سے پارلیمنٹ سے باہر اور عمران خان کے بغیر مذاکرات نہیں ہوں گے جس شرط کو پی ٹی آئی رہنما مسترد کر چکے ہیں۔
بدھ کی صبح تک اس شرط پر حکومت کا کوئی ردعمل رپورٹ نہیں ہوا تھا اور مجوزہ 28ویں ترمیم کا متن اور ٹائم ٹیبل بھی یہاں خلاصہ کی گئی رپورٹس کے مطابق باضابطہ طور پر پارلیمنٹ کے سامنے نہیں رکھا گیا۔ پاکستان میں آئینی ترامیم بار بار دو تہائی اکثریت سے محروم حکومتوں اور توازن رکھنے والے اپوزیشن اتحادوں کے درمیان سودے بازی کا ذریعہ بنتی رہی ہیں اور پی ٹی آئی کے اعلان نے اس کے ووٹ دستیاب ضرور رکھے ہیں مگر سب سے بڑی قیمت کے عوض۔
اگلا مرحلہ اس پر منحصر ہے کہ آیا حکومت ترمیم کے لیے وہ راستہ کھولنے پر تیار ہوتی ہے جس سے وہ عوامی طور پر انکار کر چکی ہے، یعنی عمران خان سمیت مذاکرات، یا پی ٹی آئی کے بغیر آگے بڑھ کر چھوٹی جماعتوں کے ساتھ اپنے اعداد آزماتی ہے۔ بہرحال جماعت کی شرط نے اس بات کو یقینی بنا دیا ہے کہ ترمیم کی بحث اور عمران خان کا سوال اب پارلیمنٹ میں بھی باضابطہ طور پر جڑ گئے ہیں۔
