واشنگٹن — صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کو کہا کہ وہ برازیل کے سینیٹر فلاویو بولسونارو کے امریکہ آنے کی منظوری دیں گے۔ بولسونارو اتوار کے صدارتی انتخابات میں شکست کے بعد برازیل چھوڑ گئے تھے۔ رائٹرز کے مطابق ان کی روانگی نے برازیل میں اس لیے سوالات کھڑے کر دیے ہیں کیونکہ وہ سپریم کورٹ کے پاسپورٹ جمع کرانے کے حکم کی تعمیل سے انکار کے بعد روانہ ہوئے۔
ٹیکساس کے انتخابی دورے سے واپسی پر جوائنٹ بیس اینڈریوز پر صحافیوں سے گفتگو میں ٹرمپ نے کہا کہ میں منظوری دوں گا۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے سنا ہے کہ بولسونارو ارجنٹینا میں ہیں۔ رائٹرز نے منگل کو رپورٹ کیا تھا کہ بولسونارو نے صدر لوئیز اناسیو لولا دا سلوا کے سامنے شکست تسلیم نہیں کی اور عدالتی حکم کے باوجود ملک چھوڑ دیا، جبکہ امریکی محکمہ خارجہ کے ایک سینیئر اہلکار نے کہا کہ امریکہ انہیں اور ان کے خاندان کو داخلے کے ویزے دے گا۔
رپورٹ شدہ گنتی کے مطابق اتوار کے دوسرے مرحلے میں لولا کو 51.79 فیصد درست ووٹ ملے جبکہ بولسونارو کو 48.21 فیصد ملے۔ ٹرمپ نے برازیل کے انتخابات کو بہت عجیب اور خوفناک قرار دیا اور کہا کہ یہ اچھے لوگ ہیں، انتخابات بہت عجیب تھے اور جائزے بھی خراب ملے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میں نے کسی کی حمایت نہیں کی، میں دونوں کو جانتا ہوں، لولا کو بھی اور فلاویو کو بھی تھوڑا، اور ان کے والد کو بہت اچھی طرح جانتا ہوں۔
ٹرمپ کی مراد سابق صدر جائر بولسونارو سے تھی، فلاویو کے والد، جن کے بارے میں وہ پہلے بھی کہہ چکے ہیں کہ برازیل میں انہیں عدالتی ظلم کا نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ والد کے ساتھ بہت برا سلوک ہوا، لیکن میں اس میں شامل نہیں تھا، یہ برازیل ہے، یہ ایک مختلف ملک ہے۔ رپورٹس کے مطابق بولسونارو منی لانڈرنگ تحقیقات میں کسی غلط کام کی تردید کرتے ہیں جس میں پاسپورٹ کا حکم جاری ہوا تھا، اور تمام ذرائع سے ان کے موجودہ ٹھکانے کی فوری تصدیق نہیں ہو سکی۔
اس روانگی نے شکست خوردہ مہم اور برازیل کی سپریم کورٹ کے درمیان محاذ آرائی تیز کر دی ہے۔ برازیل میں بولسونارو کے اتحادیوں نے ملک سے فرار کے کسی منصوبے سے لاعلمی ظاہر کی ہے جبکہ مخالفین سوال اٹھا رہے ہیں کہ عدالتی حکم کے باوجود وہ ملک کیسے چھوڑ سکے اور کیا اس سفر میں غیر ملکی حکومتوں کا کوئی کردار تھا۔ محکمہ خارجہ کے ویزا بیان کے بعد یہ تنازع اب واشنگٹن تک پہنچ گیا ہے جہاں ٹرمپ انتظامیہ بولسونارو خاندان کے ساتھ سلوک پر برازیل کی عدلیہ پر بار بار تنقید کر چکی ہے۔
اسی موقع پر ٹرمپ نے دیگر سفارتی معاملات پر بھی بات کی اور کہا کہ انہیں امید ہے کہ وہ جلد روسی صدر ولادیمیر پوتن اور یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی سے ملاقات کریں گے اور یوکرین جنگ کے حل کی طرف کافی پیش رفت ہوئی ہے۔ رائٹرز کے مطابق پوتن کہہ چکے ہیں کہ روس آئندہ ماہ یوکرین کے ساتھ امریکی ثالثی مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے لیے تیار ہے۔
اگلا مرحلہ اس پر منحصر ہے کہ آیا بولسونارو امریکہ میں رہنے کی کوشش کرتے ہیں، آیا برازیل کی سپریم کورٹ ان کے خلاف احکامات میں شدت لاتی ہے، اور آیا واشنگٹن کا ویزا فیصلہ لولا حکومت کے ساتھ رسمی سفارتی تنازع بنتا ہے جس نے تاحال ٹرمپ کے بیانات پر عوامی ردعمل نہیں دیا۔
