اے آئی اسٹاکس میں پھر فروخت کا دباؤ، تیل 110 ڈالر فی بیرل سے اوپر؛ نیسڈیک فیوچرز میں کمی

گرتے ہوئے اسٹاک چارٹس اور بڑھتی ہوئی تیل کی قیمت کی مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ تصویر۔

مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ تصویر۔

نیو یارک — مصنوعی ذہانت سے جڑے اسٹاکس میں فروخت کا دباؤ منگل کو پھر لوٹ آیا، جبکہ برینٹ خام تیل 110 ڈالر فی بیرل سے اوپر چلا گیا جو مئی کے بعد اس کی بلند ترین سطح ہے۔ اس دباؤ نے وال اسٹریٹ کی وہ محتاط بحالی بھی ختم کر دی جو ایک روز پہلے نظر آئی تھی۔

وال اسٹریٹ جرنل اور انویسٹوپیڈیا کے مطابق ابتدائی کاروبار میں نیسڈیک فیوچرز میں تقریبا 0.7 فیصد، ایس اینڈ پی 500 فیوچرز میں 0.3 فیصد کمی ہوئی، جبکہ ڈاؤ فیوچرز تقریبا مستحکم رہے۔ اس سے نیسڈیک کا پیر کو ہونے والا ایک فیصد سے زائد کا اضافہ دباؤ میں آ گیا۔

دباؤ کی دو وجوہات تھیں: ایک طرف اے آئی کا کاروبار، دوسری طرف تیل کی منڈی۔ اے آئی انفراسٹرکچر سے جڑے اسٹاکس دنیا بھر میں گرے۔ جنوبی کوریا کی ڈیٹا سینٹر اسٹارٹ اپ ایلیس اپنے اسٹاک مارکیٹ آغاز پر تقریبا ایک تہائی گر گئی، سوئس انجینئرنگ گروپ اے بی بی پورے سال کی پیش گوئی بڑھانے کے باوجود تقریبا 6 فیصد گرا، اور کور ویو، جس کے بڑھتے قرض اخراجات نے گزشتہ ہفتے کی گراوٹ کو ہوا دی تھی، پری مارکیٹ کاروبار میں تقریبا 3 سے 4 فیصد نیچے رہا۔

دوسری جانب برینٹ خام تیل کے اگلے ماہ کے سودے 110 ڈالر فی بیرل سے اوپر چلے گئے، جو 19 مئی کے بعد بلند ترین اختتامی سطح کی طرف بڑھ رہے ہیں، کیونکہ مشرق وسطی میں رسد کے خطرات بڑھ گئے ہیں۔ اے این زیڈ کے تجزیہ کاروں نے خلیج فارس میں بحری جہازوں پر حملوں میں واضح اضافے کی طرف اشارہ کیا۔ انویسٹوپیڈیا کے مطابق ڈبلیو ٹی آئی خام تیل 2.5 فیصد بڑھ کر تقریبا 106.20 ڈالر فی بیرل ہو گیا، جو اپریل کے بعد اس کی بلند ترین سطح ہے۔

یہ دباؤ دونوں طرف سے ایک ساتھ آیا: بڑھتا تیل مہنگائی کا خطرہ بڑھاتا ہے، جبکہ کمزور اے آئی اسٹاکس اسٹاک مارکیٹ کے نمو والے انجن کو کھینچتے ہیں۔ سرمایہ کاروں کے محفوظ ٹھکانوں کی طرف جانے سے سرکاری بانڈز مضبوط ہوئے۔ وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق دس سالہ ٹریژری بانڈ کی آمدن تقریبا 5.11 فیصد تک گر گئی، جو پیر کے اختتام پر 5.14 فیصد کے قریب تھی، جبکہ تیس سالہ آمدن 5.455 فیصد کے آس پاس رہی۔ بازاروں نے اکتوبر میں فیڈرل ریزرو کی شرح سود بڑھانے کی توقعات تیزی سے کم کر دی ہیں۔ ایل ایس ای جی کے اعداد و شمار کے مطابق سرمایہ کار اب 27 اور 28 اکتوبر کے اجلاس میں شرح سود برقرار رہنے کا 80 فیصد سے زائد امکان ظاہر کر رہے ہیں، اور فیڈرل ریزرو اس وقت اجلاس سے پہلے کے بلیک آؤٹ دور میں ہے۔ ڈالر کمزور ہوا، سونے کے فیوچرز 4,150 ڈالر فی اونس سے نیچے آ گئے اور بٹ کوائن تقریبا 0.7 فیصد گر کر 81,300 ڈالر کے قریب رہا۔

عام آدمی کے لیے اس کا مطلب یہ ہے کہ 110 ڈالر سے اوپر کا تیل گھریلو بجٹ کے لیے سب سے براہ راست خطرہ ہے، کیونکہ اس سے پٹرول اور ڈیزل مہنگا ہوتا ہے اور نقل و حمل کے اخراجات بڑھ کر دکانوں کی قیمتوں میں شامل ہو جاتے ہیں۔ دس سالہ آمدن میں کمی اگر برقرار رہے تو قرض لینے والوں کے لیے کچھ ریلیف ہو سکتا ہے، کیونکہ اس کا اثر رہن اور صارف قرضوں کی لاگت پر پڑتا ہے، مگر 5.11 فیصد پر بھی یہ کئی دہائیوں کی بلند سطح کے قریب ہے، اس لیے قرض اب بھی مہنگا ہے۔

منگل کے شیڈول میں یہ بھی شامل ہے کہ نیٹ فلکس اور اسپیس ایکس اختتامی گھنٹی کے بعد آمدنی کی رپورٹس دیں گے، جبکہ جنرل موٹرز، یونائیٹڈ ایئر لائنز اور تھری ایم نے صبح اپنے نتائج جاری کیے۔ انویسٹوپیڈیا کے مطابق وفاقی حکومت نے چینی اے آئی ماڈل ڈیپ سیک کو سرکاری اداروں میں استعمال کرنے پر پابندی لگا دی ہے۔ یہ صورت حال بدل رہی ہے، بازار کھلے ہیں اور اعداد و شمار سیشن کے دوران تبدیل ہو سکتے ہیں۔

یہ خبر شیئر کریں

غلطی نظر آئی؟ زرک نیوز سے رابطہ کریں