پاکستان اور افغانستان کی سرحد پر ہفتے 17 اکتوبر کی دیر رات مہلک جھڑپیں ہوئیں، جب افغان فورسز نے پاکستانی سرحدی چوکیوں پر فائرنگ کی۔ پاکستانی سیکیورٹی حکام کے مطابق پاکستان نے گولہ باری اور توپ خانے سے جوابی کارروائی کی، اور اتوار کو کرم کے علاقے میں وقفے وقفے سے فائرنگ جاری رہی۔
رائٹرز کے مطابق افغان وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی اسی ہفتے افغانستان میں کیے گئے پاکستانی فضائی حملوں کا جواب تھی۔ پاکستانی سیکیورٹی حکام کے مطابق جوابی کارروائی میں کئی افغان سرحدی چوکیاں تباہ کر دی گئیں۔ جیو نیوز اور ایکسپریس ٹریبیون کی رپورٹوں کے مطابق بالائی کرم میں شیپولا بیس کیمپ "مکمل طور پر تباہ” کر دیا گیا اور ٹائیدا اور غوزگڑھی سیکٹر میں ٹاپ سر چوکی کو نشانہ بنایا گیا۔
رائٹرز کے ذریعے پاکستانی سیکیورٹی عہدیداروں کے مطابق جمعرات کو مبینہ طور پر کابل میں تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے ایک رہنما کو فضائی حملے میں نشانہ بنایا گیا تھا، اور اس کی بقا کی صورتحال غیر واضح ہے۔ اسلام آباد نے ان فضائی حملوں کی باضابطہ تصدیق نہیں کی ہے۔
افغان وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ اس کا آپریشن آدھی رات کو ختم ہو گیا۔ طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اتوار کو کہا کہ "افغانستان کے کسی حصے میں کسی قسم کا خطرہ نہیں”۔
رائٹرز کے ذریعے مقامی حکام کے مطابق اتوار کو دو اہم سرحدی کراسنگ — طورخم اور چمن — بند کر دی گئیں، ساتھ ہی خرلاچی، انگور اڈہ اور غلام خان کی کراسنگ بھی بند ہیں۔ اس سے سینکڑوں مسافر، درجنوں کارگو ٹرک اور طبی مریض سرحد پر پھنس گئے ہیں۔
ہلاکتوں کے بارے میں دونوں جانب سے آزادانہ تصدیق شدہ اعداد و شمار سامنے نہیں آئے ہیں۔ افغان خبر رساں ادارے بختر نیوز ایجنسی نے دعویٰ کیا ہے کہ جھڑپوں میں سات پاکستانی فوجی ہلاک ہوئے، مگر اس دعوے کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔ اسی طرح پاکستان نے افغان جانب "بھاری نقصان” کا دعویٰ کیا ہے، جس کی بھی آزادانہ تصدیق نہیں ہوئی۔ دونوں جانب سے ہلاکتوں کی تعداد کے بارے میں غیر جانب دار ذرائع سے کوئی مصدقہ معلومات دستیاب نہیں ہیں۔
یہ اس ایڈیشن کا پاکستان سلاٹ ہے — رات بھر کوئی حقیقی نئی پی ٹی آئی پیش رفت نہیں ملی، اس لیے سرحدی جھڑپوں کی یہ کہانی، جو پاکستان کی سب سے بڑی ترقی ہے، اس سلاٹ پر شائع کی جا رہی ہے۔
یہ کیوں اہم ہے
پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی جھڑپیں علاقائی استحکام کے لیے براہ راست خطرہ ہیں۔ دو اہم تجارتی راستوں کا بند ہونا دو طرفہ تجارت، ٹرانزٹ اور عام لوگوں کی آمدورفت کو متاثر کرتا ہے — سینکڑوں مسافر اور طبی مریض پہلے ہی پھنسے ہوئے ہیں۔ ٹی ٹی پی کے معاملے پر دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی کشیدگی مزید تصادم کا خطرہ بڑھا سکتی ہے۔
آگے کیا ہوگا
اب سب کی نظریں اس پر ہیں کہ آیا کراسنگ دوبارہ کھلتی ہیں اور سرحدی فائرنگ کا سلسلہ تھمتا ہے یا مزید بڑھتا ہے۔ دونوں حکومتوں کے بیانات اور سفارتی رابطوں پر نظر رکھنی ہوگی — خاص طور پر یہ کہ پاکستان اسلام آباد سے کابل کے مبینہ فضائی حملوں کی باضابطہ تصدیق کرتا ہے یا نہیں، اور افغان جانب سے مزید جوابی کارروائی کا اعلان ہوتا ہے یا نہیں۔
