یوکرین نے ہفتہ سے اتوار کی رات روس پر اس جنگ کی اب تک کی سب سے بڑی ایک رات کی ڈرون یلغار کی، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی پر تنقید کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ وہ "یہ جنگ ختم نہیں کرنا چاہتے”۔ روسی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ اس نے 15 علاقوں، کریمیا اور بحیرہ اسود میں 1015 ڈرون تباہ کیے۔
ان حملوں سے سینٹ پیٹرزبرگ آئل ٹرمینل (سالانہ گنجائش 12.5 ملین ٹن)، روچی آئل ڈپو، اوزون لاجسٹکس سینٹر اور وی کے ڈیٹا سینٹر میں آگ لگ گئی۔ حکام کے مطابق ایک شخص ہلاک اور پانچ زخمی ہوئے، جبکہ لینن گراڈ علاقے میں تقریباً 20 ہزار افراد بجلی سے محروم رہے۔
ٹرمپ نے اتوار کو ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ امن کی بات چیت میں وہ روس کو مذاکرات کی میز سے دور نہیں کرنا چاہتے۔ اس بیان پر یوکرین کے حامیوں نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔
جمعہ کو ٹرمپ نے صدارتی حکم نامہ جاری کر کے کانگریس کے منظور کردہ روس پر پابندیوں (گراہم ایکٹ، دو طرفہ حمایت) کو معطل کر دیا، جن میں روسی ڈیزل درآمدات پر پابندی کا خاتمہ بھی شامل ہے۔ وزیر خارجہ مارکو روبیو نے 60 دن کا جائزہ اعلان کیا۔ درجن بھر دو طرفہ سینیٹروں نے مذمت کی، جبکہ سینیٹر جیمز لنک فورڈ نے دفاع کیا کہ پٹرول کی قیمتوں میں اضافے کے وقت "امریکی عوام کو پہلے رکھنا” ضروری ہے۔
زیلنسکی نے این بی سی کے "میٹ دی پریس” میں کہا کہ امریکہ کا روس کا ساتھ دینا "تاریخی غلطی” ہوگی، اور پابندیوں کی معطلی کو "روسی جارحیت کی مزید حمایت” قرار دیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اسٹار لنک ڈرون رہنمائی کی رفتار کم کی گئی، تاہم ٹرمپ انتظامیہ اس کی تردید کرتی ہے۔
حکام کے مطابق یوکرین کے ساتھ امریکی انٹیلی جنس شیئرنگ تین دن معطل رہنے کے بعد اب بحال ہو گئی ہے، مگر کیف پر اتوار کے بیلسٹک حملے سے پہلے کوئی پیشگی وارننگ نہیں ملی — ایک ہفتے میں تیسری بار۔ زیلنسکی کے مطابق روس نے ٹرمپ کے توانائی جنگ بندی کے اعلان کے بعد یوکرین کے توانائی اور تیل و گیس کے شعبوں پر 76 حملے کیے، اور پچھلے ہفتے 2700 ڈرون، 1700 فضائی بم اور 66 میزائل داغے؛ 24 گھنٹوں میں 11 افراد ہلاک اور تقریباً 50 زخمی ہوئے۔
وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق پوٹن نے اگلے ماہ شینژن میں اے پیک اجلاس کے حاشیے پر ٹرمپ اور شی جن پنگ کے ساتھ سہ فریقی سربراہی ملاقات کی تجویز دی ہے۔ کریملن ترجمان دمتری پیسکوف نے تصدیق کی کہ بات چیت جاری ہے۔ ایک سینئر امریکی عہدیدار کے مطابق ٹرمپ نے ابھی منظوری نہیں دی، تاہم مائل ہو سکتے ہیں۔
یہ کیوں اہم ہے
یہ پیش رفت تین سطحوں پر اہم ہے۔ پہلی: یوکرین کی ڈرون صلاحیت اب روس کے اندرونی اہداف — تیل کے ٹرمینل اور لاجسٹکس — کو باقاعدگی سے نشانہ بنا رہی ہے۔ دوسری: ٹرمپ کی زیلنسکی پر کھلی تنقید اور پابندیوں کی معطلی امریکی پالیسی میں واضح موڑ ہے، جس سے اتحادیوں اور کانگریس میں تشویش پیدا ہوئی ہے۔ تیسری: پوٹن کی سہ فریقی ملاقات کی تجویز ظاہر کرتی ہے کہ ماسکو اس جنگ کو چین سمیت وسیع تر مذاکرات کے فریم میں دیکھ رہا ہے۔
آگے کیا ہوگا
روبیو کا 60 دن کا جائزہ طے کرے گا کہ پابندیوں کی معطلی مستقل ہوگی یا عارضی۔ اے پیک اجلاس پر سہ فریقی ملاقات کی تجویز پر ٹرمپ کے فیصلے کا انتظار رہے گا، جبکہ یوکرین کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر روسی حملوں کا تسلسل سردیوں سے پہلے انسانی بحران کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔
