واشنگٹن — وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ہفتے کو کہا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ روس پر پابندیوں اور محصولات کے معاشی اثرات کا جائزہ لینے کے لیے ساٹھ دن تک کا وقت لیں گے. یہ پابندیاں صدر نے ایک دن پہلے روکی تھیں. رائٹرز کے مطابق صدر ٹرمپ نے خود صحافیوں سے کہا ہے کہ انہوں نے اس معاملے پر اپنا حتمی فیصلہ ابھی ظاہر نہیں کیا.
فلوریڈا کے پام بیچ میں واقع اپنے مار ا لاگو کلب میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ آپ میں سے بہت سے لوگ ابھی نہیں جانتے کہ میرا فیصلہ کیا ہے، لیکن ہم اسے طے کر لیں گے اور آپ کو بھی معلوم ہو جائے گا. یہ گفتگو اس انتظامی حکم کے ایک دن بعد سامنے آئی ہے جس کے تحت گراہم ایکٹ نامی روس پابندی قانون کی اہم شقیں روک دی گئی تھیں.
ازبکستان کے دورے سے پہلے طیارے میں سوار ہونے سے قبل روبیو نے کہا کہ صدر ساٹھ دن کی مدت میں یہ تجزیہ کرنا چاہتے ہیں کہ پابندیاں اور محصولات عالمی معیشت اور امریکی معیشت کے لیے کیا معنی رکھتے ہیں.
گراہم ایکٹ پر صدر نے گزشتہ ماہ دستخط کیے تھے اور اس کی شقیں اگلے ہفتے نافذ ہونے والی تھیں. اس قانون میں روس پر پابندیوں کے ساتھ ساتھ روسی توانائی درآمد کرنے والے ممالک کی اشیا پر محصولات بھی شامل ہیں. جمعے کے انتظامی حکم میں رعایت کی مدت واضح نہیں کی گئی تھی، اس لیے روبیو کے بیان سے پہلی بار ایک وقت کا خاکہ سامنے آیا ہے.
روبیو کے مطابق محصولات والی شقیں معاملے کو پیچیدہ بناتی ہیں کیونکہ ان کا اثر روس سے آگے تک جاتا ہے. انہوں نے بھارت کی مثال دی، جو امریکہ کا اہم شراکت دار ہے، اپنی توانائی کی فراہمی میں تنوع لایا ہے مگر اب بھی روسی تیل پر بڑی حد تک انحصار کرتا ہے.
وزیر خارجہ نے روس کے ساتھ ڈیزل کی فراہمی بڑھانے کے الگ معاہدے کا بھی دفاع کیا، جس کا مقصد ایندھن کی بڑھتی قیمتوں کو کم کرنا ہے. اس معاہدے کے تحت روس ابتدا میں تین لاکھ میٹرک ٹن سے زائد ڈیزل امریکہ کو فراہم کرے گا اور نومبر میں مزید ترسیل ہوگی. روبیو نے کہا کہ یہ ڈیزل کسی نہ کسی طرح فروخت ہونا ہی ہے، فرق صرف یہ ہے کہ اس میں سے امریکہ کو کتنا ملے گا.
انہوں نے کہا کہ دنیا بھر کے تنازعات اب ایک دوسرے سے ٹکرا رہے ہیں اور اس کا اثر صرف تیل اور ڈیزل کی قیمتوں پر نہیں بلکہ معیشتوں پر بھی پڑ رہا ہے.
اس رعایت پر کیف اور کیپیٹل ہل دونوں میں تنقید ہوئی ہے. یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلینسکی نے خبردار کیا کہ اس سے روسی صدر ولادیمیر پوتن کی حوصلہ افزائی ہوگی اور جنگ طول پکڑے گی. سینیٹر ڈارلین گراہم، جن کے مرحوم بھائی لنڈسے گراہم اس قانون کے مرکزی حامی تھے، نے کہا کہ وہ صدر کے فیصلے سے متفق نہیں اور اگلے ہفتے انتخابی مہم کے موقع پر صدر سے اس پر بات کریں گی. انہوں نے کہا کہ ذاتی طور پر وہ روس پر دباؤ برقرار رکھنے کا انتخاب کریں گی کیونکہ انہیں پوتن اور روس پر اعتماد نہیں.
یہ فیصلہ نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے چند ہفتے پہلے سامنے آیا ہے، جب ایران کے ساتھ جنگ کی وجہ سے عالمی تیل کی فراہمی متاثر ہو رہی ہے اور صدر کو توانائی کی بلند قیمتوں پر دباؤ کا سامنا ہے. ساٹھ دن کی یہ مہلت دسمبر تک جائے گی، اور قانون کی شقیں بدستور موجود ہیں، اس لیے صدر چاہیں تو انہیں بعد میں نافذ بھی کر سکتے ہیں.

