سلہٹ — بنگلہ دیش دنیا کی بدترین خسرہ وبا پر قابو پانے کی کوشش کر رہا ہے۔ صحت کے ماہرین کے مطابق یہ بحران ہر ملک کے لیے انتباہ ہے کہ معمول کی ویکسینیشن کی شرح میں کمی کے نتائج کتنے سنگین ہو سکتے ہیں۔ یہ بات ہفتے کو شائع ہونے والی رائٹرز کی رپورٹ میں سامنے آئی ہے۔
عالمی ادارہ صحت کے مطابق بنگلہ دیش میں مارچ کے وسط میں وبا شروع ہونے کے بعد سے 9 اکتوبر تک خسرہ کے 202,000 مشتبہ کیسز سامنے آ چکے ہیں جن میں سے 22,000 کی لیبارٹری سے تصدیق ہوئی ہے۔ یہ تعداد اس سال کسی بھی ملک سے زیادہ ہے۔ اب تک 1,147 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں اور رپورٹ شدہ اموات میں سے 94 فیصد پانچ سال سے کم عمر بچوں کی ہیں۔
بنگلہ دیش کا معمول کا ویکسینیشن پروگرام 2025 میں متاثر ہوا اور کوریج اس تقریباً 95 فیصد سطح سے نیچے آ گئی جسے عالمی ادارہ صحت وبا کی روک تھام کے لیے ضروری قرار دیتا ہے۔ بنگلہ دیش حالیہ برسوں میں اس سطح کے قریب پہنچ چکا تھا۔ خسرہ انتہائی متعدی وائرسوں میں سے ایک ہے اس لیے کوریج میں معمولی کمی بھی بڑی تعداد میں بچوں کو غیر محفوظ چھوڑ دیتی ہے۔
رائٹرز نے عالمی ادارہ صحت کی دستاویزات کے جائزے اور ایک درجن سے زائد سائنسدانوں، طبی کارکنوں اور اہلکاروں کے انٹرویوز میں پایا کہ ہنگامی ردعمل کو ان مشکلات کا بھی سامنا رہا کہ صحت کے اعداد و شمار میں لاکھوں بچے شامل ہی نہیں تھے، تیاری میں خامیاں تھیں اور والدین تک رسائی ناکافی رہی۔ جب ریکارڈ میں بچے موجود ہی نہ ہوں تو ویکسین لگانے والے ان بچوں کو تلاش نہیں کر سکتے جنہیں تحفظ کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔
عالمی ادارہ صحت کے ویکسین مشیر اور نیویارک یونیورسٹی کے پروفیسر مارک جٹ نے اس وبا کو ہر ملک کے لیے حقیقی انتباہ قرار دیا اور کہا کہ ویکسینیشن کے ذریعے وبا کی روک تھام ہنگامی ردعمل کے مقابلے میں آسان، سستی اور محفوظ ہے۔ وزیراعظم طارق رحمان کے صحت کے امور کے خصوصی معاون ضیا الدین حیدر نے ستمبر میں رائٹرز کو بتایا تھا کہ حکومت وبا ختم کرنے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہی ہے۔ حکومت نے اکتوبر میں بھیجے گئے مزید سوالات کا جواب نہیں دیا۔ یہ بحران بنگلہ دیش سے باہر بھی اہم ہے کیونکہ خسرہ کسی بھی ملک کے حفاظتی ٹیکوں کے نظام کی صحت کی پہلی علامت ہوتا ہے۔

