کیپ ٹاؤن، جنوبی افریقہ — جنوبی افریقہ کے ٹاؤن شپس میں چند گھنٹوں کے اندر دو علیحدہ بڑی فائرنگ کے واقعات میں کم از کم 27 افراد ہلاک اور دو درجن سے زائد زخمی ہو گئے ہیں، پولیس نے اتوار کے روز بتایا۔
اے پی کے مطابق پہلے حملے میں ہفتے کی دیر رات جوہانسبرگ کے جنوب مغرب میں ویڈیلا ٹاؤن شپ کے ایک بار میں کلاشنکوفوں اور پستولوں سے مسلح آٹھ بندوق برداروں نے فائرنگ کی۔ حملہ مقامی وقت کے مطابق رات ساڑھے نو بجے شروع ہوا۔ بندوق برداروں نے پہلے باہر کھڑے افراد پر گولیاں چلائیں پھر اندر جا کر فائرنگ جاری رکھی۔ تیرہ مردوں اور چار خواتین سمیت سترہ افراد ہلاک اور کم از کم پندرہ زخمی ہوئے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں نے کچھ افراد کی تلاشی بھی لی اور ان کے موبائل فون چھین کر دو گاڑیوں میں فرار ہو گئے۔ فائرنگ کے دوران بار کے باہر دو گاڑیوں کو آگ لگا دی گئی۔
تقریباً چار گھنٹے بعد اتوار کی رات ایک بجے کے قریب کیپ ٹاؤن کے قریب لوانڈلے ٹاؤن شپ کے ایک اسٹور پر بندوق برداروں نے فائرنگ کر کے کم از کم دس افراد کو ہلاک اور گیارہ کو زخمی کر دیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ وہ متعدد مشتبہ افراد کی تلاش میں ہے لیکن حملہ آوروں کی درست تعداد نہیں بتائی گئی۔
دونوں واقعات میں ابھی تک کوئی گرفتاری عمل میں نہیں آئی اور محرک بھی معلوم نہیں ہو سکا۔ پولیس نے بندوق برداروں کی تلاش کے لیے دونوں ٹاؤن شپس اور اردگرد کے علاقوں میں خصوصی تفتیشی یونٹس تعینات کر دیے ہیں۔
یہ حملے ڈربن کے قریب کواماخوتا ٹاؤن شپ میں ایک گھر میں ہونے والی تقریب پر فائرنگ کے پانچ دن بعد ہوئے ہیں جس میں حاملہ خاتون سمیت گیارہ افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اے پی کے مطابق اس مقدمے میں بھی ابھی تک کوئی گرفتاری نہیں ہوئی۔
جنوبی افریقہ طویل عرصے سے دنیا میں پرتشدد جرائم کی بلند ترین شرحوں سے دوچار ہے، لیکن حالیہ دنوں میں بڑی فائرنگ کے یکے بعد دیگرے واقعات نے تشویش میں اضافہ کر دیا ہے۔ حکام نے بعض حملوں کا تعلق مجرم گروہوں اور غیر قانونی آتشیں اسلحے کی وسیع دستیابی سے جوڑا ہے۔ مقامی رپورٹوں کے مطابق اگست میں جاری کردہ سرکاری جرائم کے اعداد و شمار میں مالی سال 2026/27 کی پہلی سہ ماہی میں قتل کی وارداتوں میں کمی ظاہر ہوئی تھی، لیکن حکام غیر قانونی ہتھیاروں اور منظم جرائم کو اب بھی بڑے سیکیورٹی خدشات قرار دیتے ہیں۔
