واشنگٹن — امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کے روز کہا کہ انہیں کیوبا کے خلاف امریکی فوجی کارروائی کی توقع نہیں، اس کے باوجود کہ خبریں سامنے آئی ہیں کہ امریکی فوج جنوبی کمان کے تحت چند ماہ کے اندر ممکنہ آپریشن کے لیے دستیاب دستوں کا جائزہ لے رہی ہے۔
یو ایس اے ٹوڈے کے مطابق ٹرمپ نے ہفتے کی صبح وائٹ ہاؤس کے باہر صحافیوں سے گفتگو میں کہا: "میرا خیال ہے کہ کیوبا اور امریکا کے درمیان معاہدہ ہو جائے گا۔ مجھے نہیں لگتا کہ ہمیں فوج کی ضرورت پڑے گی۔ کیوبا بہت بری طرح ناکام ہو رہا ہے۔ ہم کیوبا کی مدد کرنا چاہتے ہیں۔ ہم کیوبا کو اپنے لوگوں کے لیے کھولنا چاہتے ہیں۔”
یہ بیان ایک صحافی کے اس سوال پر آیا جس میں پوچھا گیا تھا کہ کیا کیوبا کے حوالے سے امریکی فوجی دستوں کو فعال کیا گیا ہے۔ گزشتہ ہفتے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں ٹرمپ نے کہا تھا کہ ان کی انتظامیہ کیوبا کی صورتحال میں "بنیادی تبدیلی” چاہتی ہے اور یہ کہ ملک "گر جائے گا۔” 22 ستمبر کو انہوں نے کہا تھا: "کمیونزم کبھی امریکا نہیں آئے گا، لیکن آزادی کیوبا ضرور آئے گی۔” اس بیان پر احتجاج کرتے ہوئے کیوبا کا وفد ان کی تقریر کے دوران اٹھ کر ہال سے چلا گیا۔
ٹرمپ نے بتایا کہ وزیر خارجہ مارکو روبیو کیوبا سے مذاکرات میں مصروف ہیں، ایسے میں جب امریکا جزیرے کے خلاف دباؤ کی مہم چلا رہا ہے جس میں تیل کی ترسیل پر پابندیاں نمایاں ہیں۔ مارچ میں صدر نے کہا تھا کہ انہیں یقین ہے کہ انہیں کیوبا "حاصل کرنے کا اعزاز” ملے گا۔
علیحدہ طور پر سی بی ایس نیوز نے اطلاع دی ہے کہ اس نے آرمی ریزرو کے ایک اندرونی میمو کا جائزہ لیا ہے جس میں ماتحت کمانوں سے چھ قسم کی یونٹس کی ممکنہ دستیابی پر رائے مانگی گئی ہے، جن میں ملٹری پولیس، طبی ٹیمیں اور لاجسٹک یونٹس شامل ہیں، جو 90 سے 120 دن کے اندر امریکی جنوبی کمان کے تحت "ممکنہ طور پر درکار” ہو سکتی ہیں۔ رپورٹوں کے مطابق میمو میں کیوبا کا ذکر نہیں، فوجیوں کی تعداد درج نہیں اور نہ ہی کوئی آپریشن مخصوص کیا گیا ہے، اور اس بات کا کوئی اشارہ نہیں کہ یونٹوں کو تعیناتی کے احکامات ملے ہوں۔ آرمی ریزرو نے سی بی ایس کی درخواست پر تبصرہ نہیں کیا، جبکہ جنوبی کمان کے ترجمان نے کہا کہ کمان "ممکنہ ضروریات کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لینے کے لیے مشترکہ فورس کے ساتھ مسلسل رابطہ” کرتی ہے۔
کیوبا کے صدر میگل دیاز کانل نے واشنگٹن پر "جارحیت” اور "معاشی جنگ” کا الزام لگایا ہے۔ قانونی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عوامی ریکارڈ میں کیوبا کو کوئی واضح امریکی الٹی میٹم یا حملے کے اعلان کا کوئی ثبوت موجود نہیں۔
