امریکہ اور چین کا مصنوعی ذہانت پر رابطہ قائم کرنے اور محصولات پر سفارشات کا اعلان

تصحیح، 26 ستمبر 2026: اس خبر کے پہلے متن میں غلط طور پر کہا گیا تھا کہ مصنوعی ذہانت کے معاملے پر کوئی اتفاق نہیں ہوا۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق دونوں ملکوں نے اس موضوع پر مذاکرات اور متعلقہ واقعات کی اطلاع کے لیے رابطہ قائم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ خبر کو سرکاری تفصیلات کے مطابق درست کر دیا گیا ہے۔

واشنگٹن — چین کے صدر شی جن پنگ کے دورۂ واشنگٹن کے بعد امریکہ اور چین نے مصنوعی ذہانت کے فوائد اور خطرات پر باقاعدہ بات چیت شروع کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ وائٹ ہاؤس کی 25 ستمبر کی تفصیلات کے مطابق دونوں ملک مصنوعی ذہانت سے متعلق واقعات پر ایک دوسرے سے رابطے کا طریقہ بھی قائم کریں گے۔ مذاکرات کا اگلا دور نومبر تک متوقع ہے۔

وائٹ ہاؤس کے مطابق دونوں جانب 30، 30 ارب ڈالر مالیت کی بعض اشیا کے لیے زیادہ سازگار درآمدی محصولات کی سفارشات پر بھی اتفاق ہوا ہے۔ یہ رقم زیرِ بحث اشیا کی مالیت ہے؛ اس کا مطلب یہ نہیں کہ محصولات میں 30 ارب ڈالر کی کمی فوری طور پر نافذ ہو گئی ہے۔ نئی شرحوں اور ان کے نفاذ کی تفصیلات ابھی سامنے آنا باقی ہیں۔

اس سے پہلے دونوں ملکوں نے موجودہ تجارتی جنگ بندی میں دو ماہ کی توسیع کی تھی۔ اس کی نئی مدت 10 جنوری 2027 تک ہے۔ تجارت اور ٹیکنالوجی سے متعلق اہم اختلافات بدستور برقرار ہیں۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق چین کی وزارتِ خارجہ نے بھی اپنے بیان میں محصولات سے متعلق پیش رفت اور مصنوعی ذہانت پر بات چیت کا ذکر کیا ہے۔

ماخذ: وائٹ ہاؤس، 25 ستمبر؛ روئٹرز، 26 ستمبر۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ خبر شیئر کریں

غلطی نظر آئی؟ زک نیوز سے رابطہ کریں