ٹرمپ کا کانگریس سے منظور شدہ 80 کروڑ ڈالر روکنے کا اقدام

واشنگٹن — صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کو کانگریس سے منظور شدہ 80 کروڑ ڈالر سے زائد کی رقم یکطرفہ طور پر روکنے کا اقدام کیا۔ یہ رقم امیگریشن، نسل اور تعلیم کے پروگراموں کے لیے مختص تھی۔ اس غیر معمولی بجٹ حربے سے کانگریس کو نظرانداز کیا گیا ہے اور وفاقی بجٹ پر اختیار کی آئینی جنگ مزید گہری ہو گئی ہے۔

رائٹرز کے مطابق جن پروگراموں کو نشانہ بنایا گیا ہے ان میں پناہ گزینوں کی امداد، نسلی اقلیتوں کے کاروبار کی ترقی اور بیرون ملک ماحولیاتی تحفظ کے منصوبے شامل ہیں۔ وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ یہ پروگرام "غیر قانونی امیگریشن کی حمایت، نسلی تناؤ کو ہوا دینے اور ماحولیات کے بارے میں خوف پھیلانے” کا باعث بنے۔

اس اقدام میں "پاکٹ ریسِشن” کا حربہ استعمال کیا گیا ہے، جس کے تحت صدر مالی سال کے اختتام کے اتنے قریب کانگریس سے منظور شدہ اخراجات منسوخ کرنے کی درخواست کرتے ہیں کہ اراکین کے پاس کارروائی کا وقت ہی نہیں رہتا — یوں ووٹنگ کے بغیر ہی رقم ختم ہو جاتی ہے۔

سینیٹ کی اپروپریشنز کمیٹی کی ریپبلکن چیئرپرسن سینیٹر سوزن کولنز نے اس اقدام کو "غیر قانونی” قرار دیا اور کہا کہ یہ "قانون کی صریح خلاف ورزی” ہے اور مینجمنٹ و بجٹ کے دفتر کی جانب سے کانگریس کے آئینی اختیار کو کمزور کرنے کی تازہ ترین کوشش ہے۔

گزشتہ سال سپریم کورٹ نے ٹرمپ کو اسی حربے سے 4.9 ارب ڈالر کی منظور شدہ غیر ملکی امداد روکنے سے نہیں روکا تھا، اور انتظامیہ اب اسی نظیر کا سہارا لے رہی ہے۔

یہ کشمکش 3 نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے چند ہفتے قبل سامنے آئی ہے، جن میں کانگریس کا کنٹرول اور وفاقی بجٹ داؤ پر لگا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ خبر شیئر کریں

غلطی نظر آئی؟ زک نیوز سے رابطہ کریں