اسلام آباد — پاکستان کی اپوزیشن جماعتوں نے اپنے اتحاد کو مضبوط کرنے، پارلیمنٹ میں رابطہ بڑھانے اور آئندہ 10 روز میں کل جماعتی کانفرنس بلانے پر اتفاق کیا ہے، جبکہ اسی ملاقات میں جیل میں قید سابق وزیراعظم عمران خان کی صحت پر تازہ تشویش بھی اٹھائی گئی، ڈان کے مطابق۔
یہ ملاقات بدھ 4 نومبر کو اسلام آباد میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کی رہائش گاہ پر ہوئی۔ اس میں قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ محمود خان اچکزئی، سینیٹ میں قائد حزب اختلاف علامہ راجہ ناصر عباس، اور پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اسد قیصر، سلمان اکرم راجہ، عامر ڈوگر اور نور الحق قادری شریک ہوئے، ڈان کے مطابق۔
جماعتوں نے اپنے اختلافات دور کرنے اور کل جماعتی کانفرنس کے انعقاد کے لیے کمیٹیاں بنا دیں، جو کانفرنس کا ایجنڈا طے کریں گی، دیگر جماعتوں سے مشاورت کریں گی اور تاریخ کا اعلان کریں گی۔ خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ ہونے کے بعد یہ اپوزیشن کی پہلی مشترکہ ملاقات تھی، جہاں وفاق نے اکتوبر میں پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت ابتدائی طور پر چھ ماہ کے لیے معطل کر دی تھی۔
عمران خان کی صحت کا معاملہ
پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے ملاقات میں عمران خان کی صحت کا معاملہ اٹھایا اور کہا کہ ان کا بلڈ پریشر قابو میں نہیں ہے، ڈان کے مطابق۔ پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ عمران خان کا بلڈ پریشر 192 تک پہنچا اور اس نے ان کی فوری شفا انٹرنیشنل اسپتال اسلام آباد منتقلی اور ذاتی معالجین سے علاج کا مطالبہ کیا ہے، جس کے لیے وہ 18 اگست کے سپریم کورٹ کے حکم کا حوالہ دیتی ہے۔ یہ جماعت کے دعوے ہیں: ان کے ساتھ کوئی آزاد طبی رپورٹ شائع نہیں ہوئی، عمران خان کے وکیل سلمان صفدر کہہ چکے ہیں کہ تشویش ناک خبروں کا ذریعہ وہ نہیں تھے، اور حکومت نے بھی اپنی کوئی طبی رپورٹ جاری نہیں کی۔
73 سالہ عمران خان اگست 2023 سے راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ ان کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ عدالت کی اجازت کے باوجود ملاقاتوں پر پابندیاں برقرار ہیں۔ دوسری جانب اسلام آباد ہائی کورٹ نے عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی 19 کروڑ پاؤنڈ کیس میں اپیلوں کی سماعت 10 نومبر کو مقرر کی ہے۔
آگے کیا ہوگا
کانفرنس کمیٹی اب دیگر جماعتوں سے مشاورت کر کے تاریخ اور ایجنڈے کا اعلان کرے گی، اور کانفرنس ایک ہفتے سے 10 روز کے اندر متوقع ہے۔ اپوزیشن کے مطابق کانفرنس میں خیبر پختونخوا کی ایمرجنسی، پارلیمنٹ کی صورت حال، معیشت اور عمران خان کی قید زیر بحث آئے گی۔ وزیراعظم شہباز شریف کی حکومت ایمرجنسی کا دفاع یہ کہہ کر کرتی ہے کہ صوبائی حکومت دہشت گردی کے خلاف جنگ سے الگ ہو گئی تھی، جبکہ پی ٹی آئی اس الزام کو مسترد کرتی ہے۔
