کراچی — نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) نے کراچی کے ایک کال سینٹر پر چھاپہ مار کر 273 افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔ گرفتار افراد میں 100 سے زائد خواتین اور 18 سال سے کم عمر 42 بچے بھی شامل ہیں۔ ایجنسی کا کہنا ہے کہ یہ کال سینٹر غیر ملکی شہریوں کو فون کر کے ان کے ساتھ فراڈ کرتا تھا۔
ایجنسی نے منگل کو شاہراہ فیصل کے قریب پی ای سی ایچ ایس میں واقع ووکسٹرون کال سینٹر پر چھاپہ مارا۔ ایڈیشنل ڈائریکٹر شہزاد اکبر نے جمعرات کو پریس کانفرنس میں تفصیلات بتائیں۔ کارروائی میں 339 لیپ ٹاپ، 152 موبائل فون اور چار کمپیوٹر قبضے میں لیے گئے۔
شہزاد اکبر نے بتایا کہ کال سینٹر کے ملازمین فرضی ناموں اور فرضی آن لائن شناختوں سے غیر ملکیوں کو فون کرتے تھے۔ ایک ایک لیپ ٹاپ پر کئی کئی شناختیں استعمال ہو رہی تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ملازمین لوگوں کی ذاتی معلومات اور کریڈٹ کارڈ نمبر حاصل کر کے ان کے کھاتوں سے رقم نکالتے تھے۔ تحقیقات میں منی لانڈرنگ اور حوالہ کے ذریعے رقم کی منتقلی کے شواہد بھی ملے ہیں، جن میں جاز کیش کا استعمال بھی شامل ہے۔ نیٹ ورک میں بیرون ملک مقیم افراد اور بعض تاجر بھی شامل تھے، اور متاثرین میں ریٹائرڈ افراد بھی شامل ہیں۔
شہزاد اکبر کے مطابق کراچی میں اس نوعیت کے تقریباً 350 کال سینٹر کام کر رہے ہیں اور یہ کمپنی تین بڑی کمپنیوں میں شامل تھی۔ اس کال سینٹر پر پہلے بھی چھاپہ پڑ چکا تھا، مگر کام دوبارہ شروع کر دیا گیا تھا۔ اب پورے نیٹ ورک کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔
گرفتار افراد کو کال سینٹر کی عمارت میں ہی رکھا گیا، جسے محکمہ داخلہ سندھ نے سب جیل قرار دیا ہے۔ انہیں ویڈیو لنک کے ذریعے جوڈیشل مجسٹریٹ (ایسٹ) گلریز میمن کی عدالت میں پیش کیا گیا۔ عدالت نے نو مرکزی ملزمان کا دو روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کیا۔ خواتین اور 18 سال سے کم عمر ملزمان کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا گیا، جبکہ باقی ملزمان کو عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا۔
دفاع کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ گرفتار افراد میں کم عمر بچوں کی تعداد 70 سے زائد ہے، جبکہ ایجنسی کے مطابق یہ تعداد 42 ہے۔ چھاپے کے بعد ملازمین کے اہل خانہ نے احتجاج بھی کیا، جس سے شاہراہ فیصل پر ٹریفک متاثر ہوئی۔
یہ الزامات ابھی ابتدائی مرحلے میں ہیں اور ایجنسی کا کہنا ہے کہ تحقیقات جاری ہیں۔
