ایران جنگ کا سایہ نئی واشنگٹن پر، ٹرمپ نے شکست میں جنگ کا حصہ تسلیم کر لیا، توانائی بازار محتاط

امریکی بحریہ کا ایف اے 18 ای سپر ہارنیٹ طیارہ امریکی سینٹرل کمان کے علاقے میں مشن پر

فائل فوٹو: امریکی بحریہ کا ایف اے 18 ای سپر ہارنیٹ طیارہ امریکی سینٹرل کمان کے علاقے میں۔ تصویر: امریکی بحریہ، ڈیوڈز کے ذریعے، پبلک ڈومین۔

واشنگٹن — بدھ کو واشنگٹن کی نئی سیاست پر ایران کے ساتھ آٹھ ماہ سے جاری جنگ کا سایہ رہا۔ وال اسٹریٹ جرنل اور روئٹرز کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تسلیم کیا کہ یہ جنگ وسط مدتی انتخابات میں ان کی پارٹی کی بھاری شکست کی ایک وجہ تھی، اور توانائی کے بازار اب ان کے اگلے قدم کا انتظار کر رہے ہیں۔

ٹرمپ نے منگل کی رات وال اسٹریٹ جرنل کو ٹیلی فون انٹرویو میں کہا کہ ایران اس شکست کا ایک حصہ تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اصل سیاسی نقصان جنگ سے نہیں بلکہ تیل کی بڑھتی قیمتوں سے ہوا، کیونکہ اس جنگ کے بعد پٹرول اور ڈیزل مہنگے ہو گئے ہیں۔ لیکن انہوں نے کہا کہ انہیں جنگ شروع کرنے پر کوئی افسوس نہیں۔ انہوں نے یہ بات بھی نہ مانی کہ نتائج ان کی صدارت کی مخالفت ہیں، اور کہا کہ وہ اپنی ٹیم میں کوئی تبدیلی نہیں کریں گے۔ انہوں نے وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ کی حمایت بھی کی، جو جنگ کی نگرانی کر رہے ہیں۔

یورپ کی گیس مارکیٹ انتظار میں

وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق بدھ کی صبح یورپ میں قدرتی گیس کی قیمتیں بڑھ گئیں۔ تاجر یہ دیکھ رہے ہیں کہ ٹرمپ ایران کے ساتھ بات چیت کریں گے یا نئے حملوں کا حکم دیں گے۔ یورپ کا مرکزی گیس معاہدہ ڈچ ٹی ٹی ایف 1.5 فیصد بڑھ کر 93.02 یورو فی میگا واٹ آور ہو گیا۔ پچھلے ہفتے یہ قیمت 100 یورو سے اوپر گئی تھی، جو دسمبر 2022 کے بعد سب سے زیادہ تھی۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ نئی کشیدگی سے قیمتیں پھر تیزی سے بڑھ سکتی ہیں۔ قطر سے مائع گیس کی برآمد آہستہ آہستہ بحال ہو رہی ہے۔ قطر دنیا کا دوسرا بڑا مائع گیس برآمد کنندہ ہے۔

معاہدہ ابھی دور ہے

بات چیت سے ابھی کوئی معاہدہ نہیں ہوا۔ ایران کے ایک سینئر اہلکار نے منگل کو روئٹرز کو بتایا کہ ایران اور امریکا جنگ ختم کرنے کے معاہدے سے ابھی بہت دور ہیں۔ قطر ثالثی کی کوششیں تیز کر رہا ہے۔ امریکا نے منگل کو ایران کے جزیرے قشم پر حملے کیے، جنہیں ایک امریکی اہلکار نے دفاعی قرار دیا۔ ٹرمپ نے فنانشل ٹائمز کو بتایا کہ ایران پر حملے کا کوئی فوری منصوبہ نہیں۔ آبنائے ہرمز کی عملی بندش نے دنیا میں توانائی کی ترسیل بدل دی ہے۔ جنگ سے پہلے دنیا کے تیل کا تقریبا بیس فیصد حصہ اسی راستے سے گزرتا تھا۔

آگے کیا ہوگا

نئی ڈیموکریٹک کانگریس جنوری میں کام شروع کرے گی، اس لیے اس سے پہلے انتظامیہ کو اپنی موجودہ پالیسی جاری رکھنے کا موقع ملے گا۔ کانگریس آنے کے بعد جنگ پر سوالات بڑھنے کی توقع ہے۔ روس اور یوکرین کے درمیان امن مذاکرات 10 اور 11 نومبر کو ابوظہبی میں بھی طے ہیں۔

وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ: Trump Acknowledges Iran War Is Partly to Blame for Republican Losses

یہ خبر شیئر کریں

غلطی نظر آئی؟ زرک نیوز سے رابطہ کریں