ڈیموکریٹس نے کانگریس کا کنٹرول حاصل کر لیا، وسط مدتی انتخابات میں ٹرمپ کو بڑا دھچکا

واشنگٹن میں امریکی کانگریس کی عمارت شام کے وقت

واشنگٹن میں امریکی کانگریس کی عمارت۔ فائل فوٹو، دسمبر 2023۔ تصویر: زرک نیوز۔

واشنگٹن — ڈیموکریٹس نے منگل کو سینیٹ اور ایوان نمائندگان دونوں کا کنٹرول حاصل کر لیا۔ خبر رساں ادارے روئٹرز اور ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹس کے مطابق پارٹی نے کئی ایسی ریاستوں میں بھی کامیابی حاصل کی جہاں ریپبلکنز عرصے سے مضبوط تھے، اور کروڑوں ووٹرز نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو واضح پیغام دیا۔

ایسوسی ایٹڈ پریس نے بدھ کی صبح ایوان نمائندگان میں ڈیموکریٹس کی جیت کا اعلان کیا۔ یہ ایوان 2023 سے ریپبلکنز کے پاس تھا۔ ایوان میں ڈیموکریٹک رہنما حکیم جیفریز اسپیکر بننے کی قطار میں ہیں اور وہ امریکا کے پہلے سیاہ فام اسپیکر ہوں گے۔ سینیٹ میں ڈیموکریٹس پہلے ہی 51 نشستوں کی اکثریت حاصل کر چکے تھے اور اپنی کوئی نشست بھی نہیں ہاری۔

سینیٹ کی سات نشستیں پلٹ گئیں

سی این این اور این پی آر کے مطابق ڈیموکریٹس نے ریپبلکنز کی سات سینیٹ نشستیں جیت لیں۔ یہ ریاستیں آئیووا، کنساس، مین، شمالی کیرولائنا، اوہائیو، جنوبی کیرولائنا اور ٹیکساس ہیں۔ کنساس میں ایڈم ہیملٹن نے موجودہ سینیٹر راجر مارشل کو ہرایا اور وہ 1932 کے بعد ریاست کے پہلے ڈیموکریٹک سینیٹر بنے۔ جنوبی کیرولائنا میں اینی اینڈریوز نے ڈارلین گراہم کو شکست دی۔ مین میں ٹرائے جیکسن نے پانچ بار کی سینیٹر سوسن کولنز کو ہرایا۔ مشی گن اور مینیسوٹا میں بھی ڈیموکریٹس کامیاب رہے۔ سینیٹ میں ڈیموکریٹک رہنما چک شومر نے اسے سینیٹ کے نقشے کی بڑی تبدیلی قرار دیا۔ کئی نشستوں پر گنتی بدھ کو بھی جاری تھی، اس لیے حتمی تعداد ابھی واضح نہیں۔

ووٹرز نے کیا کہا

ایگزٹ پول سے شکست کی وجہ سمجھ آتی ہے۔ اے پی ووٹر پول کے مطابق تقریبا نوے فیصد ووٹرز نے کہا کہ مہنگائی ان کے فیصلے میں اہم تھی۔ زیادہ تر ووٹر خوراک اور پٹرول کی قیمتوں پر فکر مند تھے۔ ساٹھ فیصد سے زیادہ ووٹرز نے کہا کہ ایران کے خلاف جنگ کا فیصلہ غلط تھا، اور تقریبا دو تہائی نے کہا کہ ٹرمپ کی ٹیرف پالیسیوں سے معیشت کو نقصان پہنچا۔ روئٹرز کے مطابق نصف ووٹرز نے کہا کہ وہ صدر کو پیغام دینا چاہتے تھے۔

ٹرمپ کا ردعمل

ٹرمپ نے وال اسٹریٹ جرنل کو ٹیلی فون انٹرویو میں تسلیم کیا کہ ایران جنگ شکست کی ایک وجہ تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ اصل مسئلہ تیل اور پٹرول کی بڑھتی قیمتیں تھیں، لیکن انہیں جنگ شروع کرنے پر کوئی افسوس نہیں۔ انہوں نے کہا کہ سب سے بڑا مسئلہ یہ تھا کہ وہ خود بیلٹ پر نہیں تھے۔ انہوں نے کہا کہ وہ ڈیموکریٹس کے ساتھ کام کرنے کو تیار ہیں لیکن ضرورت پڑی تو ویٹو کا اختیار استعمال کریں گے۔

آگے کیا ہوگا

نئی کانگریس جنوری میں کام شروع کرے گی۔ روئٹرز کے مطابق اس کے بعد حکومت دو حصوں میں بٹی ہوگی۔ ڈیموکریٹس انتظامیہ کی تحقیقات کر سکیں گے اور بڑے قوانین پر شرائط رکھ سکیں گے۔ ڈیموکریٹک سینیٹ صدر کے نامزد کردہ افراد کو بھی روک سکے گی، جس میں سپریم کورٹ کا کوئی جج بھی شامل ہو سکتا ہے۔

روئٹرز کی رپورٹ: Democrats seize Congress in sweeping midterm repudiation of Trump

اہم فاتحین کا مختصر تعارف

رائے کوپر، 69 برس، شمالی کیرولائنا سے سینیٹر منتخب (ڈیموکریٹ)۔ وہ 2017 سے 2025 تک شمالی کیرولائنا کے گورنر اور اس سے پہلے سولہ برس ریاست کے اٹارنی جنرل رہے۔ یہ ان کی ساتویں ریاستی سطح کی جیت ہے اور وہ کبھی کوئی ریاستی انتخاب نہیں ہارے۔

جیمز تالاریکو، 37 برس، ٹیکساس سے سینیٹر منتخب (ڈیموکریٹ)۔ وہ آسٹن کے علاقے سے ریاستی نمائندے اور سابق مڈل اسکول استاد ہیں۔ وہ 1988 کے بعد ٹیکساس سے سینیٹ کے لیے منتخب ہونے والے پہلے ڈیموکریٹ ہیں۔

جینا ہنوجوسا، ٹیکساس کی گورنر منتخب (ڈیموکریٹ)۔ وہ وکیل ہیں اور 2017 سے ٹیکساس ہاؤس میں آسٹن کی نمائندگی کر رہی ہیں۔ انہوں نے تین بار کے گورنر گریگ ایبٹ کو شکست دی۔ وہ ٹیکساس کی پہلی لاطینی گورنر ہوں گی۔

جان اوسوف، 39 برس، جارجیا سے سینیٹر دوبارہ منتخب (ڈیموکریٹ)۔ وہ پہلی بار 2021 کے رن آف میں جیتے تھے جس سے سینیٹ کا کنٹرول طے ہوا تھا۔ سیاست سے پہلے وہ تحقیقی دستاویزی فلمیں بنانے والی کمپنی چلاتے تھے۔

کرس پیپس، 46 برس، نیو ہیمپشائر سے سینیٹر منتخب (ڈیموکریٹ)۔ وہ 2019 سے ایوان نمائندگان کے رکن ہیں۔ وہ ریٹائر ہونے والی سینیٹر جین شاہین کی نشست سنبھالیں گے۔

اینی اینڈریوز، جنوبی کیرولائنا سے سینیٹر منتخب (ڈیموکریٹ)۔ وہ چارلسٹن میں بچوں کی ماہر ڈاکٹر ہیں۔ انہوں نے نامزد سینیٹر ڈارلین گراہم کو شکست دی، جو اس رات کی بڑی کامیابیوں میں سے ایک ہے۔

کیشا لانس باٹمز، 56 برس، جارجیا کی گورنر منتخب (ڈیموکریٹ)۔ وہ 2018 سے 2022 تک اٹلانٹا کی میئر رہیں۔ وہ امریکا میں گورنر منتخب ہونے والی پہلی سیاہ فام خاتون ہیں۔

بائرن ڈونلڈز، 48 برس، فلوریڈا کے گورنر منتخب (ریپبلکن)۔ وہ 2021 سے ایوان نمائندگان کے رکن اور صدر ٹرمپ کے قریبی ساتھی ہیں۔ وہ فلوریڈا کے پہلے سیاہ فام گورنر ہوں گے۔

عبدالسید، مشی گن سے سینیٹر منتخب (ڈیموکریٹ)۔ وہ ڈاکٹر ہیں اور ڈیٹرائٹ کے محکمہ صحت کے سابق سربراہ ہیں۔ وہ امریکی سینیٹ کے لیے منتخب ہونے والے پہلے مسلمان امریکی ہیں۔

یہ خبر شیئر کریں

غلطی نظر آئی؟ زرک نیوز سے رابطہ کریں