راولپنڈی — پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان نے پیر کو اڈیالہ جیل میں سات ماہ میں پہلی بار اپنے وکیل سے ملاقات کی۔ یہ 40 منٹ کی ملاقات تھی، جسے ان کے وکیل نے دونوں کے متعدد مقدمات پر بات کے لیے ناکافی قرار دیا۔
بیرسٹر سلمان صفدر نے پیر کی سہ پہر تقریبا ساڑھے چار بجے جیل میں قید سابق وزیر اعظم اور ان کی اہلیہ بشری بی بی سے ملاقات کی۔ ایکس پر اپنے پیغام میں صفدر نے کہا کہ بار بار درخواستوں کے بعد جیل حکام نے یہ ملاقات کرائی۔ ان کی عمران خان سے سات ماہ میں اور بشری بی بی سے 11 ماہ میں یہ پہلی ملاقات تھی۔ انہوں نے لکھا کہ یہ وقت تمام مقدمات اور قانونی معاملات پر بات کے لیے ناکافی تھا اور دونوں نے انہیں اپنی صورتحال سے آگاہ کیا۔
عمران خان تک رسائی ان کی قید کے مرکزی تنازعات میں سے ایک رہی ہے۔ پی ٹی آئی اور ان کے خاندان کا کہنا ہے کہ عدالتوں کی بار بار ہدایات کے باوجود حالیہ مہینوں میں رشتہ داروں، پارٹی رہنماؤں اور وکلاء سے ملاقاتیں بڑی حد تک محدود رہی ہیں۔ ستمبر میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے جیل حکام کو ہدایت کی تھی کہ خان اور بشری بی بی کی تنہائی ختم کی جائے اور انہیں جیل قوانین کے مطابق سہولتیں دی جائیں۔
عمران خان 5 اگست 2023 سے جیل میں ہیں، جب انہیں ریاستی تحائف سے متعلق توشہ خانہ مقدمے میں سزا کے بعد گرفتار کیا گیا تھا۔ رپورٹنگ کے مطابق دسمبر 2025 میں توشہ خانہ سے متعلق ایک اور مقدمے میں بھی انہیں اور بشری بی بی کو بالترتیب دس سال اور سات سال کی سزائیں سنائی گئیں۔ ان پر مزید مقدمات بھی قائم ہیں، جن میں 9 مئی 2023 کے واقعات سے متعلق مقدمات شامل ہیں۔
یہ ملاقات اس دن ہوئی جب پارٹی کی قانونی اور سیاسی لڑائیاں بھی تیز رہیں۔ لاہور میں ہائی کورٹ نے خان کی تینوں بہنوں، علیمہ خان، عظمی خان اور نورین نیازی، کی مسلسل نظربندی کے مقدمے میں لاہور کے ڈپٹی کمشنر کو بدھ 4 نومبر کو پیش ہونے کا حکم دیا اور حکم دیا کہ نورین نیازی کی دو بیٹیوں کو منگل کی صبح ایک گھنٹے کے لیے ان سے ملاقات کی اجازت دی جائے۔ تینوں بہنیں ستمبر سے پنجاب مینٹیننس آف پبلک آرڈر آرڈیننس کے تحت نظربند ہیں۔
ادھر پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے پیر کو پارٹی رہنما بیرسٹر محمد علی سیف کے ان دعووں کو مسترد کیا جو خان سے ملاقات کی کوششوں سے متعلق تھے۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی نے عدالتوں اور مذاکرات دونوں راستوں سے کوشش کی لیکن ایک بھی ملاقات کی اجازت نہیں ملی۔ پارٹی کی سیاسی کمیٹی نے اسی دن اپنے بیان میں اندرونی اختلافات کی خبروں کو مسترد کیا، نظربند پارٹی رہنماؤں کی رہائی کا مطالبہ کیا اور مجوزہ 28ویں آئینی ترمیم پر پارٹی کے فیصلے کو خان سے ملاقات سے جوڑا۔
آئندہ کا انحصار کسی ایک مقدمے سے زیادہ رسائی پر ہے۔ صفدر کی ملاقات سے ظاہر ہوتا ہے کہ جیل حکام چاہیں تو قانونی رسائی ممکن بنا سکتے ہیں۔ آیا ایسی ملاقاتیں معمول بنیں گی، جیسا کہ پی ٹی آئی اور خاندان کا مطالبہ ہے، اس کا امتحان آئندہ سماعتوں میں ہوگا، جس کا آغاز بدھ کو لاہور کی کارروائی سے ہوگا۔
