ایرانی مذاکرات کار دوحہ سے روانہ، امریکہ سے معاہدے کی مسودہ تجویز گردش میں آ گئی

دو خشکی کے حصوں کے درمیان تنگ آبی گزرگاہ میں تیل بردار جہاز کی تصویر

مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ تصویر۔

دوحہ — امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے کے لیے قطری ثالثوں سے بات چیت کرنے والے ایرانی مذاکرات کار دوحہ سے روانہ ہو گئے ہیں اور معاہدے کی ایک مسودہ تجویز گردش میں آ گئی ہے۔ یہ بات مذاکرات سے آگاہ ایک اہلکار نے پیر کو بتائی، رائٹرز کے مطابق۔

اہلکار نے کہا کہ مذاکرات کار اتوار کو روانہ ہوئے، لیکن اس کی وجہ مذاکرات میں کوئی مشکل نہیں تھی، اور ایک فالو اپ ملاقات ممکن ہے۔ اہلکار نے مسودہ تجویز کی کوئی تفصیل نہیں دی، اس لیے رپورٹ کا یہ حصہ اسی ایک نامعلوم اہلکار کی بات پر مبنی ہے۔

وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے پیر کو کہا کہ مذاکرات کی بنیاد ایران کا وہ سات مرحلوں والا منصوبہ ہے جو اس نے ستمبر میں تیار کیا تھا، جس کا مقصد آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا اور ایران پر امریکی بحری محاصرہ ختم کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی دوحہ میں تھے تاکہ قطری ثالثوں کے ذریعے واشنگٹن کے ساتھ پیغامات کا تبادلہ ہو سکے۔ ایران اور امریکہ کے درمیان براہ راست مذاکرات نہیں ہو رہے، پیغامات ثالثوں کے ذریعے جاتے ہیں۔

ایران اب کہتا ہے کہ یہ منصوبہ تیز رفتار سے نافذ کیا جا سکتا ہے۔ وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ہفتے کو کہا کہ معاہدے کی صورت میں آبنائے ہرمز اصل سات دن کے بجائے دو دن کے اندر کھولی جا سکتی ہے۔ پیر کو عراقچی نے ثالثوں کے ذریعے مشاورت کو بہت گہری قرار دیا لیکن کہا کہ ہفتے کے اختتام کی بات چیت میں کوئی بڑی پیش رفت نہیں ہوئی اور اب نتیجہ واشنگٹن پر منحصر ہے۔

تہران کا اعلانیہ موقف بدستور سخت ہے: بقائی نے کہا کہ جب تک امریکی بحری محاصرہ ختم نہیں ہوتا اور ایران کے مطالبات پورے نہیں ہوتے، کوئی حتمی معاہدہ شروع نہیں ہو سکتا اور آبنائے کو دوبارہ نہیں کھولا جا سکتا۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کی ابتدائی تجویز مسترد کر چکے ہیں۔ 28 فروری سے شروع ہونے والی یہ جنگ اپنے نویں مہینے میں ہے اور کوئی جنگ بندی نافذ نہیں ہے۔

یہ سفارت کاری خطے سے باہر بھی اہم ہے کیونکہ آبنائے ہرمز دنیا کی تیل اور گیس کی ترسیل کے بڑے حصے کا راستہ ہے اور اس کی بندش سے توانائی کی قیمتوں پر دباؤ قائم رہا ہے۔ آگے کیا ہوتا ہے اس کا انحصار اب گردش میں آنے والے مسودے اور واشنگٹن کے جواب پر ہے۔ فی الحال دوحہ کا ذریعہ بھی کھلا ہے اور ایران کی شرائط بھی برقرار ہیں، اور کسی فریق نے معاہدے کا اعلان نہیں کیا۔

یہ خبر شیئر کریں

غلطی نظر آئی؟ زرک نیوز سے رابطہ کریں