لندن — گوگل کلاؤڈ کے لندن ڈیٹا سینٹر ریجن میں بجلی کی خرابی کے باعث منگل کی صبح برطانیہ اور یورپ بھر میں درجنوں آن لائن سروسز متاثر ہو گئیں، جن میں ڈیجیٹل بینک ریولوٹ، لائیڈز، ایچ ایس بی سی اور ہیلی فیکس سمیت رائل میل اور ڈی پی ڈی جیسی کمپنیاں شامل ہیں. گوگل کے مطابق خرابی اس کے یورپ ویسٹ ٹو ریجن میں پیش آئی، جہاں ایک زون میں بجلی کا مسئلہ پیدا ہوا اور درجنوں کلاؤڈ سروسز میں خامیاں اور نیٹ ورک کی رکاوٹیں سامنے آئیں.
سب سے زیادہ متاثر ریولوٹ ہوا، جس کی ایپ اور کارڈ سروسز یورپ بھر میں معطل ہو گئیں. صارفین کو اکاؤنٹ میں سائن ان، کارڈ ادائیگیوں، رقوم کی منتقلی، اے ٹی ایم سے رقم نکلوانے اور کرپٹو کرنسی کے لین دین میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا. کمپنی نے اپنے بیان میں سروس میں رکاوٹ کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ تمام صارفین کی رقوم اور ڈیٹا مکمل طور پر محفوظ ہیں اور اس کی ٹیمیں صبح سے مسئلہ حل کرنے میں مصروف ہیں. سروسز کی نگرانی کرنے والی ویب سائٹ ڈاؤن ڈیٹیکٹر کے مطابق منگل کی صبح ریولوٹ کے بارے میں 1500 سے زائد شکایات درج ہوئیں.
لائیڈز بینکنگ گروپ نے کہا کہ اس کی بعض آن لائن سروسز متاثر ہوئیں، تاہم صارفین معمول کے مطابق ایپ میں لاگ ان کر سکے. ایچ ایس بی سی اور ہیلی فیکس کے صارفین نے بھی مشکلات کی اطلاع دی، جبکہ رائل میل، ڈی پی ڈی، رائٹ موو اور سکرو فکس کی سروسز بھی متاثر ہوئیں. برطانیہ کی عدالتوں کی ویڈیو سروس میں بھی رکاوٹ پیش آئی، اور جرمنی میں آئی این جی بینک کے صارفین نے بھی ایپ میں مسائل کی شکایت کی.
گوگل نے اپنے سروس اسٹیٹس پیج پر بتایا کہ خرابی برطانوی وقت کے مطابق صبح سات بج کر آٹھ منٹ پر ریجن کے ایک زون میں بجلی کے مسئلے سے شروع ہوئی اور اس سے 38 کلاؤڈ مصنوعات متاثر ہوئیں. کمپنی نے ابتدا میں کوئی متبادل حل پیش نہیں کیا، تاہم بعد میں کاروباری صارفین کو مشورہ دیا کہ اگر ممکن ہو تو اپنے سسٹمز کسی دوسرے زون یا ریجن میں منتقل کر لیں. ٹیکنالوجی اخبار دی رجسٹر کے مطابق لندن ریجن کے تین میں سے ایک زون متاثر ہوا تھا.
رائٹرز کے مطابق یہ رکاوٹ گوگل کلاؤڈ کی اسی خرابی سے منسلک تھی. دوپہر تک گوگل نے کہا کہ بجلی کا مسئلہ بڑی حد تک حل کر لیا گیا ہے اور زیادہ تر سسٹمز بحال ہو رہے ہیں، تاہم کمپنی نے یہ واضح نہیں کیا کہ خرابی کی اصل وجہ کیا تھی اور مکمل بحالی کا حتمی وقت بھی نہیں دیا. ماہرین کے مطابق یہ واقعہ اس بات کی واضح مثال ہے کہ دنیا بھر کے بینک اور کاروبار چند بڑی کلاؤڈ کمپنیوں کے انفراسٹرکچر پر کس حد تک انحصار کرتے ہیں، اور ایک ہی ڈیٹا سینٹر کی خرابی لاکھوں صارفین کو بیک وقت متاثر کر سکتی ہے.
