اسلام آباد — پاکستان تحریک انصاف نے اپنے قید بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اسپتال منتقلی کے معاملے پر حکومت کے خلاف سپریم کورٹ میں توہین عدالت کی کارروائی کی درخواست دے دی ہے جبکہ 22 سابق بین الاقوامی کرکٹ کپتانوں نے ایک بار پھر اپیل کی ہے کہ عمران خان کو عدالت کے حکم کے مطابق طبی سہولت فراہم کی جائے. یہ اطلاعات الجزیرہ اور پاکستانی میڈیا نے دی ہیں.
تنازع کا مرکز سپریم کورٹ کا 18 اگست کا حکم ہے جس میں کہا گیا تھا کہ عمران خان کو جامع طبی معائنے کے لیے اسلام آباد کے نجی شفا انٹرنیشنل اسپتال لے جایا جائے، معائنے کے لیے بننے والے بورڈ میں ان کی طبیب بہن ڈاکٹر عظمیٰ خان شامل ہوں اور وہ ستمبر کے وسط تک وہیں رہیں. اس کے بجائے عمران خان کو سخت سکیورٹی میں آدھی رات کے بعد سرکاری پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز یعنی پمز لے جایا گیا جہاں چند گھنٹے معائنے کے بعد انہیں اگلی صبح علی الصبح راولپنڈی کی اڈیالہ جیل واپس بھیج دیا گیا. حکومت کا کہنا ہے کہ قابل ڈاکٹروں کی ٹیم نے انہیں طبی طور پر فٹ قرار دیا تھا.
پی ٹی آئی کے وکلا سلمان اکرم راجا اور عزیر بھنڈاری نے توہین عدالت کی درخواست دائر کی ہے جس میں شوکاز نوٹس جاری کرنے، ذمہ داروں کو ذاتی طور پر پیش ہونے کا حکم دینے اور عمران خان کو فوری طور پر شفا اسپتال منتقل کرنے کی استدعا کی گئی ہے. ڈاکٹر عظمیٰ خان کی جلد سماعت کی ایک اور درخواست منظور نہیں ہوئی اور اس کے بعد یہ معاملہ دائرہ اختیار کے تنازع میں پھنس گیا کیونکہ متعلقہ ریکارڈ وفاقی آئینی عدالت نے طلب کر لیا ہے. پاکستانی قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس تعطل سے عمران خان کے علاج کے بارے میں غیر یقینی صورتحال طول پکڑ گئی ہے.
دوسری جانب 22 سابق بین الاقوامی کپتانوں نے جن میں بھارت کے کپل دیو اور سنیل گواسکر، سری لنکا کے ارجنا راناتنگا اور کلائیو لائیڈ، گریگ چیپل، ایلن بارڈر اور الیسٹر کک شامل ہیں، وزیراعظم شہباز شریف کو خط لکھ کر اپیل کی ہے کہ عمران خان کو عدالت کی ہدایت کے مطابق اہل خانہ سے ملاقات کی اجازت دی جائے اور عدالت کی تجویز کردہ علاج کی سہولت بغیر تاخیر فراہم کی جائے. کرکٹرز کا کہنا ہے کہ وہ سیاستدانوں کے طور پر نہیں بلکہ سابق ساتھیوں اور حریفوں کے طور پر لکھ رہے ہیں. اس اپیل میں کوئی پاکستانی کرکٹر شامل نہیں ہوا. اس سے پہلے فروری میں بھی 14 سابق کپتانوں نے عمران خان کے ساتھ بہتر سلوک کی درخواست کی تھی.
یہ طبی تنازع ایک وسیع تر سیاسی محاذ آرائی کے ساتھ چل رہا ہے. 11 اکتوبر کو صدر آصف علی زرداری نے خیبر پختونخوا میں ہنگامی حالت نافذ کر کے پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت معطل کر دی تھی. وفاقی حکومت کا موقف ہے کہ صوبائی حکومت دہشت گردی پر قابو پانے میں ناکام رہی. رائٹرز کے مطابق صوبائی وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور کابینہ کے ارکان کو احتیاطی حراست میں لیا گیا اور سینکڑوں پی ٹی آئی حامی گرفتار کیے گئے. پی ٹی آئی اس ہنگامی اقدام کو سیاسی قبضے کا بہانہ قرار دیتی ہے جس کی حکومت تردید کرتی ہے. عمران خان جن کی عمر 74 برس ہے، 2018 سے 2022 تک وزیراعظم رہے اور 2023 سے ان الزامات میں قید ہیں جن کی وہ تردید کرتے ہیں. اب یہ دیکھنا اہم ہے کہ توہین عدالت کی درخواست کس عدالت میں سنی جاتی ہے اور آیا حکم دیا گیا طبی بورڈ اپنا کام مکمل کر پاتا ہے یا نہیں.

