واشنگٹن — ایک وفاقی اپیل عدالت نے جمعرات کو کہا کہ فیڈرل کمیونیکیشنز کمیشن نے اپنے اختیار سے تجاوز کیا جب اس نے وہ نجی کمپنی قائم کی جو تقریبا 9 ارب ڈالر سالانہ کے یونیورسل سروس فنڈ کا انتظام کرتی ہے، رائٹرز کے مطابق۔
ففتھ سرکٹ کی اپیل عدالت کے تین ججوں کے بینچ نے کہا کہ کانگریس نے 1997 میں ایف سی سی کو یونیورسل سروس ایڈمنسٹریٹو کمپنی قائم کرنے کی واضح اجازت کبھی نہیں دی تھی، رائٹرز کے مطابق۔
یہ فنڈ ٹیلی کام کمپنیوں سے رقم جمع کرتا ہے، جن میں سے بیشتر یہ لاگت صارفین پر ڈال دیتی ہیں، اور اس سے فون اور انٹرنیٹ تک رسائی بڑھانے کے پروگرام چلتے ہیں۔ اس سے دیہی اور کم آمدنی والے علاقے، مقامی امریکی قبائلی علاقے، اسکول، لائبریریاں اور دیہی صحت مراکز فائدہ اٹھاتے ہیں، رائٹرز کے مطابق۔
ایف سی سی کے ترجمان نے کہا کہ ادارہ تمام آپشنز پر غور کر رہا ہے، رائٹرز کے مطابق۔ ترجمان نے یہ بھی کہا کہ عدالت کا حکم کم از کم دو ماہ تک نافذ نہیں ہو گا، اس لیے فنڈ فوری طور پر بند نہیں ہو رہا۔
یہ فیصلہ اس فنڈ پر جاری ایک طویل قانونی لڑائی کی تازہ کڑی ہے۔ جون 2025 میں امریکی سپریم کورٹ نے فنڈ کی مالی فراہمی کے طریقے کو برقرار رکھا تھا، رائٹرز کے مطابق۔ اس ہفتے کا فیصلہ رقم پر نہیں بلکہ اس کمپنی کی قانونی بنیاد پر ہے جو رقم جمع کرتی اور شرحیں مقرر کرتی ہے۔
یہ فرق عملی طور پر اہم ہے۔ ٹیلی کام کمپنیاں اس فنڈ سے اربوں ڈالر حاصل کرتی ہیں اور لاکھوں صارفین سبسڈی والی سروس پر انحصار کرتے ہیں، رائٹرز کے مطابق۔ اگر منتظم ڈھانچہ حتمی طور پر ختم ہوا تو ان پروگراموں کو جاری رکھنے کے لیے نیا قانونی انتظام درکار ہو گا۔
اس فنڈ کی اہمیت یہ ہے کہ یہ ان علاقوں میں رابطے کی سہولت فراہم کرتا ہے جہاں تجارتی سروس فراہم کرنا سب سے مشکل ہے۔ 1997 کے ایک انتظامی فیصلے پر حکم اگر اپیل میں برقرار رہا تو تقریبا تین دہائیوں سے چلنے والا نظام نئے سرے سے بنانا پڑ سکتا ہے۔
آگے ایف سی سی اپیل یا نظرثانی کی درخواست دے سکتا ہے اور کانگریس بھی توجہ دے سکتی ہے۔ فی الحال، رائٹرز کے مطابق، فنڈ کام کر رہا ہے اور صارفین کے بلوں یا پروگراموں کی ادائیگیوں میں فوری تبدیلی کا اعلان نہیں کیا گیا۔
