واشنگٹن — صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو کہا کہ امریکہ روس اور چین کے ساتھ ان ممالک کے جوہری ہتھیاروں میں کمی پر بات چیت کر رہا ہے جن کے پاس سب سے بڑے ذخیرے ہیں، رائٹرز کے مطابق۔
ٹرمپ نے یہ بات نیوز میکس کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہی، رائٹرز کے مطابق۔ انھوں نے کہا کہ وہ ممکن ہو تو جوہری ہتھیار ختم کرنا چاہتے ہیں اور ماسکو اور بیجنگ دونوں سے اس موضوع پر بات ہو رہی ہے۔ نیوز میکس نے رپورٹ کیا کہ ٹرمپ نے کہا کہ انھوں نے چینی صدر شی جن پنگ سے بھی اس موضوع پر بات کی ہے، رائٹرز کے مطابق۔
کسی معاہدے، وقت یا باقاعدہ مذاکراتی ڈھانچے کا اعلان نہیں کیا گیا۔ یہ بات چیت کی خبر ہے، دستخط شدہ معاہدہ نہیں، اور رائٹرز کی رپورٹ میں روس یا چین کی طرف سے کسی نئے دور یا شرائط کی تصدیق نہیں بتائی گئی۔
یہ بیانات اس وقت آئے ہیں جب امریکہ اور روس کے درمیان آخری بڑا جوہری معاہدہ نیو اسٹارٹ اس سال کے شروع میں ختم ہو چکا ہے، رائٹرز کے مطابق۔ یہ معاہدہ 2010 میں ہوا تھا اور اس میں تعینات اسٹریٹجک ہتھیاروں کی حد مقرر تھی۔ اس کی ایک پانچ سالہ توسیع پر 2021 میں اتفاق ہوا تھا۔ اب کسی بھی نئی حد کے لیے نیا انتظام یا دونوں ملکوں کا رضاکارانہ فیصلہ درکار ہو گا۔
اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے اندازوں کے مطابق روس کے پاس ذخیرہ شدہ جوہری ہتھیار سب سے زیادہ ہیں، اس کے بعد امریکہ اور پھر چین ہے، رائٹرز کے مطابق۔ ٹرمپ نے کہا کہ ان کے خیال میں چین تقریبا پانچ سال میں امریکہ کے برابر آ جائے گا، رائٹرز کے مطابق۔
یوکرین پر روس کے حملے کے بعد واشنگٹن اور ماسکو کے درمیان ہتھیاروں پر کنٹرول کے مذاکرات بڑی حد تک رک گئے تھے۔ چین کا ذخیرہ چھوٹا مگر بڑھ رہا ہے اور بیجنگ ماضی میں سہ فریقی حدود میں شامل ہونے سے گریز کرتا رہا ہے۔
اس معاملے کی اہمیت یہ ہے کہ کسی نئے ڈھانچے کے بغیر دو بڑی جوہری طاقتوں پر دہائیوں بعد کوئی پابند حد نہیں رہے گی، جبکہ ایک تیسری طاقت کسی معاہدے سے باہر اپنا ذخیرہ بڑھا رہی ہے۔ اگر یہ ابتدائی بات چیت باقاعدہ عمل میں بدلتی ہے تو یہ برسوں کے جمود سے تبدیلی ہو گی۔
آگے کیا ہو گا اس کا انحصار اس پر ہے کہ ماسکو یا بیجنگ عوامی طور پر ان بات چیت کی تصدیق کرتا ہے یا نہیں اور وائٹ ہاؤس کوئی ایلچی، تاریخ یا تجویز سامنے لاتا ہے یا نہیں۔ فی الحال یہ دعوی صدر کے اپنے ایک ٹیلی ویژن انٹرویو پر مبنی ہے جسے رائٹرز نے رپورٹ کیا ہے، اس لیے اسے ایک اشارہ سمجھنا چاہیے، طے شدہ نتیجہ نہیں۔
