یمن کے حوثی باغیوں نے سعودی عرب کے مشرقی شہر دھران میں سرکاری تیل کمپنی آرامکو کے ہیڈکوارٹر پر میزائل حملہ کیا ہے — مملکت کی توانائی کی صنعت کے خلاف مہم میں ایک بڑی شدت — اور بدھ کو خبردار کیا کہ وہ سعودی ایئرپورٹوں اور تیل کی تنصیبات پر حملے جاری رکھیں گے۔
سعودی وزارت توانائی کے مطابق رات گئے ہونے والا میزائل حملہ دھران میں آرامکو کمپلیکس کی ایک انتظامی عمارت پر ہوا، جس سے محدود آگ لگی۔ وزارت کا کہنا ہے کہ کوئی زخمی نہیں ہوا۔
وال اسٹریٹ جرنل نے باخبر ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ عمارت کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا: حملے کے بعد لگنے والی آگ کئی منزلوں تک پھیل گئی اور چھت کا کچھ حصہ گر گیا۔ اخبار کے مطابق اس عمارت میں آرامکو کے چیف ایگزیکٹو کا دفتر اور تیل کی فراہمی کی منصوبہ بندی کا شعبہ بھی ہے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس سے بات کرتے ہوئے علاقائی حکام نے کہا کہ حملے سے عمارت کی اوپری تین منزلیں متاثر ہوئیں، جن میں کمپنی کے چیف ایگزیکٹو اور دیگر اعلیٰ حکام کے دفاتر شامل ہیں۔
مزید حملوں کی دھمکی
رائٹرز کے مطابق حوثیوں نے بدھ کو عہد کیا کہ وہ سعودی عرب کے ایئرپورٹوں اور تیل کی تنصیبات پر حملے جاری رکھیں گے۔ گروپ کا کہنا ہے کہ اس نے دھران میں آرامکو تنصیبات، ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور ریاض میں آرامکو کی ریفائنری پر بیلسٹک میزائل، کروز میزائل اور ڈرون داغے۔ حوثیوں نے ایئرپورٹوں اور تیل تنصیبات کو جائز فوجی اہداف قرار دیتے ہوئے بین الاقوامی شپنگ کمپنیوں، شہریوں اور کارکنوں سے انہیں خالی کرنے کی اپیل کی۔
سعودی قیادت والے اتحاد کا کہنا ہے کہ اس نے بدھ کو ریاض کی طرف داغا گیا ایک بیلسٹک میزائل روک لیا۔ سعودی حکام کے مطابق روکے گئے میزائلوں کے ملبے سے ریاض میں چار افراد زخمی ہوئے اور دارالحکومت میں زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔
یہ حملہ ہفتے کو ریاض ایئرپورٹ پر ہونے والے مہلک حملے کے بعد ہوا ہے، جس میں رائٹرز کے مطابق 13 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران حوثیوں کے بار بار حملوں سے دارالحکومت کے مرکزی بین الاقوامی ایئرپورٹ کو ایک سے زائد بار پروازیں معطل کرنا پڑی ہیں۔
منڈیوں پر اثر
کشیدگی نے جمعرات کو منڈیوں کو ہلا کر رکھ دیا۔ برینٹ خام تیل کی قیمت صبح کی تجارت میں 2.2 فیصد گر کر 103.78 ڈالر فی بیرل ہو گئی، جبکہ خلیجی ممالک کی بڑی اسٹاک منڈیاں گر گئیں — سعودی عرب کا بینچ مارک انڈیکس 0.6 فیصد گرا اور قطر کا انڈیکس 1.2 فیصد گر کر چھ سال سے زائد کی کم ترین سطح پر آ گیا۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے جمعرات کو خبردار کیا کہ مشرق وسطیٰ میں طویل جنگ اور توانائی کی پیداوار، جہاز رانی کے راستوں یا اہم بنیادی ڈھانچے میں مزید خلل خطے کی معیشتوں کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے۔
عام لوگوں کے لیے اس کا کیا مطلب ہے
عام گھرانوں کے لیے اصل معاملہ ایندھن اور سفر کا ہے۔ 100 ڈالر سے زائد فی بیرل برینٹ خام تیل پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں پر دباؤ برقرار رکھے گا — یہ قیمتیں فروری میں امریکہ ایران جنگ شروع ہونے کے بعد سے پہلے ہی بڑھ چکی ہیں۔ سعودی ایئرپورٹوں پر بار بار حملوں سے خطے میں سفر بھی متاثر ہو رہا ہے۔
رائٹرز کے مطابق حوثیوں کا کہنا ہے کہ وہ یمن کی جنگ میں یمنی حکومت کی افواج کی سعودی حمایت کا بدلہ لے رہے ہیں — یہ جنگ گزشتہ ماہ خلیج میں امریکہ ایران کشیدگی کے دوران دوبارہ بھڑک اٹھی تھی۔ منگل کو سعودی قیادت والے اتحاد نے کہا تھا کہ اس نے یمن میں حوثیوں کے زیر قبضہ ایندھن کے ایک ڈپو کو نشانہ بنایا؛ حوثیوں کا کہنا ہے کہ اس میں دو شہری ہلاک ہوئے، جبکہ اتحاد کا کہنا ہے کہ اس نے شہریوں کو پہلے سے خبردار کر دیا تھا۔
یہ خبر ابھی تیار ہو رہی ہے۔
ذرائع: رائٹرز؛ وال اسٹریٹ جرنل؛ ایسوسی ایٹڈ پریس؛ سی این این۔
