ٹرمپ انتظامیہ کی بین الاقوامی فوجداری عدالت پر پابندیاں، نوبل امن انعام کے اعلان کے چند گھنٹے بعد

Zark News illustration — AI-generated; not a photograph of the event.

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے جمعے کو بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) پر پابندیاں عائد کر دیں — یہ اقدام اس وقت سامنے آیا جب عدالت کی سابق جج نوی پِلّے کو 2026 کا نوبل امن انعام دیا گیا۔

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے اعلان کرتے ہوئے کہا کہ "صدر ٹرمپ کبھی بھی بین الاقوامی فوجداری عدالت کو امریکیوں پر مقدمہ چلانے کی اجازت نہیں دیں گے۔” ان کے مطابق امریکہ "اس باغی عدالت کے ساتھ لین دین پر پابندی لگائے گا، ان کے وسائل منقطع کرے گا اور ان کے کام کرنے کی صلاحیت کو مفلوج کر دے گا۔”

یہ اقدام ماضی میں عدالت کے انفرادی پراسیکیوٹرز اور ججوں پر لگائی گئی پابندیوں سے کہیں آگے ہے — نئی پابندیوں کے تحت عدالت کو خدمات فراہم کرنے والی کمپنیوں کو بھی سزا دی جا سکتی ہے۔

واشنگٹن طویل عرصے سے اسرائیلی حکام بشمول وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے خلاف گرفتاری وارنٹس اور افغانستان میں امریکی فوجیوں کے خلاف ماضی کی تحقیقات پر عدالت سے ناراض ہے۔

عدالت کی ڈپٹی پراسیکیوٹر نژہت شمیم خان نے پابندیوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ "بین الاقوامی سطح پر قانون کی حکمرانی کو کمزور کرنے” کے لیے ہیں، اور عدالت کا کام جاری رہے گا۔

نوی پِلّے 2003 سے 2008 تک آئی سی سی کے اپیل چیمبر کی جج رہیں۔ نوبل کمیٹی نے اپنے اعزازی بیان میں کہا تھا کہ وہ ایسے وقت میں یہ یاد دہانی کرانا چاہتی ہے جب "جج اور بین الاقوامی قانون کے ادارے سیاسی حملوں کی زد میں ہیں۔”

یہ خبر شیئر کریں

غلطی نظر آئی؟ زرک نیوز سے رابطہ کریں