واشنگٹن۔ رائٹرز کی ایک خصوصی رپورٹ کے مطابق امریکہ کے خصوصی ایلچی جیرڈ کشنر سمیت روس اور امریکہ کے اعلی حکام نے نورڈ اسٹریم گیس پائپ لائنوں میں امریکی سرمایہ کار لانے پر تبادلہ خیال کیا ہے، یہ وہی پائپ لائنیں ہیں جن سے کبھی جرمنی کو روسی گیس فراہم ہوتی تھی۔
مذاکرات میں روسی صدر ولادیمیر پوٹن کے قریبی مشیر کرل دمتریف اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد کشنر شامل تھے جو روس اور یوکرین کے درمیان جنگ بندی کی کوشش کر رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق دونوں کی حالیہ ہفتوں میں ماسکو اور نیویارک میں ملاقاتیں ہوئی ہیں۔ یہ واضح نہیں کہ ان ملاقاتوں میں نورڈ اسٹریم پر کتنی بات ہوئی لیکن دو ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ موضوع اب بھی ایجنڈے پر ہے۔
رپورٹ کے مطابق کشنر کا ماننا ہے کہ کاروبار امن کی بحالی میں مرکزی کردار ادا کر سکتا ہے، اور ایسا معاہدہ امریکی سرمایہ کاروں کو جنگ کے خاتمے کے بعد یورپ کو توانائی کی فراہمی سے منافع کمانے کا موقع دے گا۔ دمتریف جرمنی کو روسی گیس کی فروخت کی بحالی کی مہم چلا رہے ہیں اور گزشتہ ماہ امریکی محکمہ توانائی اور خزانہ کے حکام سے ملاقات کی تھی۔ ان کے ترجمان نے تبصرے سے انکار کیا۔
وائٹ ہاؤس کے ایک اہلکار نے رائٹرز کو بتایا کہ کوئی بھی معاہدہ روس کو امریکی انٹرنیشنل ڈیولپمنٹ فنانس کارپوریشن اور محکمہ خزانہ کے ساتھ کرنا ہوگا اور اس سے امریکی ٹیکس دہندگان اور کمپنیوں کو فائدہ پہنچنا چاہیے۔ اسی اہلکار نے یہ بھی کہا کہ حالیہ دنوں میں نورڈ اسٹریم پر کوئی بات چیت نہیں ہوئی۔
تاہم بڑی رکاوٹیں موجود ہیں۔ نورڈ اسٹریم پائپ لائنوں پر امریکہ اور یورپی یونین دونوں کی پابندیاں ہیں، جس سے موجودہ قوانین کے تحت ان کی بحالی غیرقانونی ہے۔ ٹرمپ امریکی پابندیوں میں نرمی کر سکتے ہیں لیکن ایک امریکی اہلکار کے مطابق اگر اگلے ماہ کے وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹس کانگریس کا کنٹرول حاصل کر لیتے ہیں تو ایسا قدم مشکل ہو جائے گا۔
یہ رپورٹ نیویارک ٹائمز کی اس خبر کے بعد سامنے آئی ہے کہ یوکرین جنگ کے خاتمے پر امریکہ روس مذاکرات میں کئی ارب ڈالر کا تیل کا معاہدہ بھی شامل ہو گیا ہے۔ کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے پیر کو اس رپورٹ پر تبصرے سے انکار کیا لیکن کہا کہ مذاکرات کاروں کے درمیان توانائی تعاون ایک موضوع ہے۔ روس کے 2022 میں یوکرین پر حملے کے بعد نورڈ اسٹریم سے روسی گیس کی فراہمی رک گئی تھی۔ جرمنی یورپ کا سب سے بڑا توانائی صارف ہے۔
