ٹائم کی رپورٹ: ٹرمپ نے مادورو کی گرفتاری سے پہلے مسک کے گروک چیٹ بوٹ سے گھنٹوں سوالات کیے

Illustration: Zark News

واشنگٹن ۔ ٹائم میگزین کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دسمبر دو ہزار پچیس میں اوول آفس کی ایک خفیہ ملاقات میں ایلون مسک کے گروک چیٹ بوٹ سے گھنٹوں سوالات کیے۔ انھوں نے مصنوعی ذہانت کے اس آلے سے پوچھا کہ اگر امریکہ اس وقت کے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو گرفتار کرے تو وینزویلا کے عوام کیا ردعمل دیں گے۔

یہ واقعہ ایک ایسے نامعلوم اہلکار کے بیان پر مبنی ہے جو اس نجی ملاقات میں موجود تھا۔ ٹیک کرنچ نے یکم اکتوبر کو یہ رپورٹ شائع کی۔ کسی اور میڈیا ادارے نے کمرے میں کہی گئی باتوں کی آزادانہ تصدیق نہیں کی ہے۔

ٹائم کے حوالے سے بتائے گئے اہلکار کے مطابق گروک نے ٹرمپ کو بتایا تھا کہ مادورو ایک جابر اور انتہائی غیر مقبول آمر ہے اور بہت سے وینزویلا کے شہری ممکنہ طور پر اس کے زوال کا جشن منائیں گے۔ اہلکار نے کہا کہ آپریشن کے بعد جشن منائے جانے پر ٹرمپ کو لگا کہ گروک انتہائی ذہین ہے۔

دسمبر کی ملاقات کے چند ہفتے بعد تین جنوری دو ہزار چھبیس کو امریکی افواج نے ایک چھاپے میں مادورو کو گرفتار کر لیا اور اسے امریکہ لے آیا۔ رائٹرز کے مطابق مادورو کو بروکلین میں منشیات دہشت گردی اور منشیات اسمگلنگ کے الزامات کا سامنا ہے اور اس نے خود کو بے گناہ قرار دیا ہے۔

یہ رپورٹ ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مسک کی کمپنیاں پینٹاگون کے کام میں گہری شامل ہو رہی ہیں۔ ٹیک کرنچ کے مطابق پینٹاگون کے مصنوعی ذہانت کے سربراہ نے جون میں کہا تھا کہ فوج نے ایران جنگ کے دوران اہداف کی نشاندہی اور حملوں کے لیے گروک گَو استعمال کیا۔ پینٹاگون نے حال ہی میں مسک اور اینڈورل کے پامر لکی کو جدید جنگی ٹیکنالوجی پر ایک مطالعے کی مشترکہ قیادت کے لیے منتخب کیا ہے۔

ٹائم کے واقعے میں گروک کو آپریشن کی سفارش کرنے کے بجائے عوامی ردعمل کی پیشگوئی کرنے والا بتایا گیا ہے۔ رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ وائٹ ہاؤس نے تبصرے کی درخواستوں کا فوری جواب نہیں دیا۔

یہ خبر شیئر کریں

غلطی نظر آئی؟ زرک نیوز سے رابطہ کریں