شمالی کوریا کا بیلسٹک میزائل کا تجربہ؛ سیئول میں ہنگامی سلامتی اجلاس

سیئول — جنوبی کوریا اور جاپان کے مطابق شمالی کوریا نے ہفتے کی صبح مشرقی ساحل کی جانب ایک بیلسٹک میزائل داغا۔ یہ اس سال شمالی کوریا کے دس سے زائد تجربات میں تازہ ترین ہے، جو ایک روز بعد سامنے آیا جب پیانگ یانگ نے سیئول کے اس مطالبے کو مسترد کر دیا کہ وہ ان بارودی سرنگوں پر معافی مانگے جن سے جنوبی کوریا کے فوجی شدید زخمی ہوئے۔

رائٹرز کے مطابق جنوبی کوریا کی جوائنٹ چیفس آف اسٹاف نے بتایا کہ میزائل ہفتے کی صبح تقریبا ساڑھے چھ بجے وونسان کے علاقے سے داغا گیا اور سات سو کلومیٹر سے زیادہ فاصلہ طے کر کے مشرقی سمندر میں گرا۔ سیئول اور واشنگٹن تجربے کی تفصیلات کا جائزہ لے رہے ہیں۔ جاپان کی وزارت دفاع نے بھی تصدیق کی کہ ممکنہ طور پر بیلسٹک میزائل داغا گیا، جس کے بعد جاپانی کوسٹ گارڈ نے بحری جہازوں کو احتیاط کی ہدایت کی۔

میزائل داغنے کے بعد جنوبی کوریا کے صدراتی دفتر کی قومی سلامتی کونسل نے ہفتے کو ہنگامی اجلاس بلایا۔ سیئول کی فوج نے کہا کہ وہ مزید تجربات کی نگرانی بڑھا دے گی اور امریکہ اور جاپان کے ساتھ انٹیلیجنس معلومات کا تبادلہ کرے گی۔ امریکی پیسفک کمانڈ نے کہا کہ اس لانچ سے امریکی عملے، علاقے یا اتحادیوں کو کوئی فوری خطرہ نہیں۔

یہ تجربہ ایک روز بعد ہوا جب شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان کی طاقتور بہن کم یو جونگ نے سیئول کے معافی کے مطالبے کو مسترد کر دیا۔ جنوبی کوریا نے اس ہفتے کہا تھا کہ شمالی کوریا کی بارودی سرنگوں کے دھماکے سے ڈی میلٹرائزڈ زون میں تلاشی کے مشن پر گئے دو جنوبی کوریائی فوجی شدید زخمی ہوئے۔ پیانگ یانگ نے اس الزام کو تسلیم کرنے سے انکار کیا ہے۔

شمالی کوریا نے حالیہ برسوں میں جنوبی کوریا کے ساتھ مفاہمت اور اتحاد کے پرانے موقف کو ترک کرتے ہوئے سیئول کو اپنا بنیادی دشمن قرار دیا ہے۔ اس سال کے بعض تجربات سیئول اور واشنگٹن کی مشترکہ فوجی مشقوں کے احتجاج میں کیے گئے، جنہیں پیانگ یانگ اپنے خلاف اشتعال انگیزی سمجھتا ہے۔

یہ خبر شیئر کریں

غلطی نظر آئی؟ زرک نیوز سے رابطہ کریں