مراکش کی تاریخ میں پہلی خاتون وزیر اعظم مقرر

رباط: مراکش کے بادشاہ شاہ محمد ششم نے فاطمہ الزہراء المنصوری کو ملک کی نئی وزیر اعظم مقرر کیا ہے۔ ۵۰ سالہ المنصوری مراکش کی تاریخ کی پہلی خاتون وزیر اعظم ہیں۔ ان کی تقرری کا اعلان ۲۹ ستمبر کو کیا گیا۔

المنصوری کا تعلق پارٹی آف آتھنٹیسٹی اینڈ ماڈرنٹی سے ہے جس نے حالیہ انتخابات میں ۳۹۵ میں سے ۹۷ نشستیں حاصل کی تھیں۔ حکومت سازی کے لیے ۱۹۸ نشستوں کی اکثریت درکار ہے اس لیے انہیں دیگر جماعتوں کے ساتھ مل کر اتحادی حکومت بنانا ہو گی۔ حکومت سازی کے لیے انہیں دیگر جماعتوں سے مذاکرات کرنا ہوں گے۔ انتخابات میں ووٹر ٹرن آؤٹ تقریباً ۳۸ فیصد رہا۔

پیشے کے اعتبار سے وکیل المنصوری اس سے قبل ہاؤسنگ کی وزیر اور مراکش شہر کی میئر کے فرائض انجام دے چکی ہیں۔ ان کے سیاسی تجربے کو ان کی تقرری کی ایک بڑی وجہ سمجھا جا رہا ہے۔ وہ عرب دنیا کی دوسری خاتون وزیر اعظم ہیں۔

نئی وزیر اعظم کو ۲۰۳۰ کے عالمی فٹ بال کپ کی تیاریوں کی نگرانی بھی کرنا ہو گی جس کی میزبانی مراکش پرتگال اور اسپین کے ساتھ مل کر کرے گا۔ ان تیاریوں پر تقریباً ۲۰ ارب ڈالر خرچ ہونے کا تخمینہ ہے۔ یہ عالمی مقابلہ مراکش کی سیاحت اور روزگار کے مواقع کے لیے بھی اہم سمجھا جا رہا ہے۔ یہ منصوبہ مراکش کی معیشت اور بنیادی ڈھانچے کے لیے ایک تاریخی موقع سمجھا جا رہا ہے۔

المنصوری کی تقرری کو مراکش میں خواتین کی سیاسی شمولیت کے لیے ایک سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔ ان کی کابینہ کی تشکیل اور حکومتی ترجیحات کا اعلان آنے والے ہفتوں میں متوقع ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ خبر شیئر کریں

غلطی نظر آئی؟ زک نیوز سے رابطہ کریں