واشنگٹن: امریکہ اور چین نے ایک دوسرے کے ساٹھ ارب ڈالر مالیت کے سامان پر عائد ٹیرف میں کمی پر اتفاق کیا ہے۔ خبر رساں اداروں رائٹرز اور سی این این کے مطابق دونوں ممالک تیس ارب ڈالر کے بدلے تیس ارب ڈالر مالیت کے سامان پر ٹیرف کم کریں گے۔ یہ معاہدہ ۲۸ ستمبر کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان واشنگٹن میں ہونے والی ملاقات کے بعد سامنے آیا۔
چین نے ۱۶۱۹ اشیا کی فہرست جاری کی ہے جن پر ٹیرف کم کیا جائے گا۔ ان اشیا میں مکئی، گندم، دودھ سے بنی مصنوعات اور طبی آلات شامل ہیں۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ سویابین اس فہرست میں شامل نہیں ہے حالانکہ وہ چین کو امریکی برآمدات کی ایک اہم جنس ہے۔
دوسری جانب امریکہ جن اشیا پر ٹیرف کم کرے گا ان میں گھریلو برقی آلات، کھلونے اور بچوں کی گاڑیوں کی نشستیں شامل ہیں۔ یہ اشیا امریکی صارفین کی روزمرہ زندگی میں وسیع پیمانے پر استعمال ہوتی ہیں۔
چین نے یہ وعدہ بھی کیا ہے کہ وہ ۲۰۲۷ اور ۲۰۲۸ میں امریکہ سے ایک کروڑ ٹن کوئلہ خریدے گا۔ یہ وعدہ آئندہ برسوں سے متعلق ہے اور اس پر عمل درآمد مستقبل میں ہو گا۔ اس پیش رفت کو دونوں ممالک کے درمیان توانائی کے شعبے میں تعاون کی جانب ایک قدم سمجھا جا رہا ہے۔
فریقین کے درمیان تجارتی جنگ بندی ۱۰ جنوری تک برقرار رہے گی۔ دونوں ممالک نے اپنی اپنی فہرستیں باضابطہ طور پر جاری کر دی ہیں۔ یہ معاہدہ دنیا کی دو بڑی معیشتوں کے درمیان جاری تجارتی کشیدگی میں کمی کی جانب ایک اہم پیش رفت ہے۔
