آر اے ایف فیئر فورڈ کے قریب دہشت گرد کارروائی کی تیاری کے شبے میں پانچ افراد گرفتار

President Donald Trump speaks to reporters in Chicago on September 27, 2026.

ویل فورڈ، انگلینڈ — برطانوی پولیس نے اتوار کی علی الصبح آر اے ایف فیئر فورڈ کے قریب پانچ افراد کو دھماکہ خیز مواد اور دہشت گردی کے شبے میں گرفتار کر لیا۔ یہ وہ فضائی اڈا ہے جہاں سے امریکی طویل فاصلے تک مار کرنے والے بمبار طیارے ایران کے خلاف جنگ میں حصہ لے رہے ہیں۔

رائٹرز کے مطابق گلوسٹرشائر پولیس کو رات 12 بج کر 45 منٹ پر کال موصول ہوئی کہ تین مشکوک گاڑیاں مغربی انگلینڈ کے اس اڈے کی طرف بڑھ رہی ہیں۔ مسلح پولیس اہلکاروں نے فضائی اڈے سے تقریباً ایک میل دور ویل فورڈ کے علاقے میں پانچ افراد کو حراست میں لیا۔ انہیں پہلے دھماکہ خیز مواد کے قانون کے تحت اور بعد میں دہشت گرد کارروائی کی تیاری کے شبے میں گرفتار کیا گیا۔ اب انسداد دہشت گردی پولیس تحقیقات کی قیادت کر رہی ہے۔

جن گاڑیوں کے قریب افراد پکڑے گئے وہاں کے قریبی تقریباً 85 گھر خالی کرا لیے گئے اور چار سو میٹر کا حفاظتی دائرہ قائم کر دیا گیا ہے۔ فوج کے دھماکہ خیز مواد تلف کرنے والے دستے نے گاڑیوں کا معائنہ کیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ صورتحال قابو میں ہے لیکن علاقے میں کچھ عرصے تک ایمرجنسی سروسز کی موجودگی رہے گی۔

پولیس نے پیر کو بتایا کہ پانچوں گرفتار افراد برطانوی شہری ہیں، ان کی عمریں بیس سے انتیس سال کے درمیان ہیں اور وہ لندن میں رہتے ہیں۔ ان کے نام جاری نہیں کیے گئے، جبکہ پولیس اب بھی ممکنہ محرک کا تعین کر رہی ہے، رائٹرز کے مطابق۔ انسداد دہشت گردی پولیس کی سینئر قومی کوآرڈینیٹر وکی ایونز نے کہا کہ تحقیقات ابھی ابتدائی مرحلے میں ہیں: "ہم اپنے شراکت داروں کے ساتھ مل کر واقعے کے حالات کو سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔” برطانیہ کے انسداد دہشت گردی قوانین کے تحت مشتبہ افراد کو الزام عائد کیے بغیر چودہ دن تک حراست میں رکھا جا سکتا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شکاگو میں صحافیوں سے گفتگو میں گرفتاریوں کو "شاندار” قرار دیا اور کہا کہ یہ افراد "بڑے پیمانے پر تباہی” چاہتے تھے اور برطانوی و امریکی حکام ان کی "طویل عرصے سے” نگرانی کر رہے تھے۔ تاہم بی بی سی، گارڈین اور ٹیلی گراف سمیت متعدد برطانوی اخبارات نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ یہ کارروائی خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر نہیں ہوئی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مقامی رہائشیوں کی چوکنا نظر نے حکام کو الرٹ کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔

اے پی کے مطابق آر اے ایف فیئر فورڈ برطانیہ کی ملکیت ہے لیکن سرد جنگ کے زمانے سے طے شدہ معاہدے کے تحت اسے امریکی فضائیہ چلاتی ہے، اور حالیہ دنوں میں یہاں سے امریکی بمبار طیاروں نے ایران کے میزائل ٹھکانوں پر محدود حملے کیے ہیں۔ یہ جنگ امریکا اور اسرائیل نے 28 فروری کو شروع کی تھی۔ ایران کی پاسداران انقلاب پہلے ہی خبردار کر چکی ہے کہ ایرانی سرزمین پر حملے کے لیے استعمال ہونے والا کوئی بھی اڈا جائز ہدف ہوگا، اور حکام ایران سے ممکنہ تعلق کو بھی تحقیقات کے ایک زاویے کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ برطانوی حکومت کا کہنا ہے کہ وزیراعظم اینڈی برنہم کو واقعے کی صورتحال سے آگاہ رکھا جا رہا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

یہ خبر شیئر کریں

غلطی نظر آئی؟ زک نیوز سے رابطہ کریں